Sunday, March 1, 2015

توسل کے بارے ميں ايک جد وجھد

توسل کا عقیدہ توحید کے عقیدے سے منافات رکھتا ھے، حقیقت میں اس استعماری مذھب کی یہ ایک کج فکری اور گمراھی ھے، ورنہ ھر صاحب بصیرت و آگاہ شخص جو قرآن و شیعہ و سنی روایات سے واقفیت رکھتا ھے بخوبی جانتا ھے کہ توسل نہ صرف توحید سے منافات رکھتا ھے بلکہ توسل توحید کا بنیادی راستہ ھے جس کی طرف قرآن کریم نے خود ”دعوتِ ارشادی“ کیا ھے ھم وھابیوں کے اس جھوٹے دعوے کو باطل کرنے کے لئے ضروری سمجھتے ھیں کہ توسل کے بارے میں ایک جامع بحث و گفتگو کریں تاکہ حق وباطل اور سچائی و جھوٹ میں فرق واضح ھو جائے۔!

لغت میں توسل کے معنی

”توسل“ یعنی کسی چیز سے نزدیک ھونے کے لئے وسیلہ تلاش کرنا ، جیسا کہ ماھرین لغت فرماتے ھیں
:تَوَسَّلَ اِلَیہِ بِوَسِیلَةٍ:اِذَا تَقَرَّبَ اِلَیہِ بِعَمَلٍ تَوَسَّلَ اِلَی اللّٰہِ بِعَمَلٍ اَو وَسِیلَةٍ: عَمِلَ عَمَلاً تَقَرَّبَ بِہِ اِلَیہِ تَعَالٰی،
(اس کی طرف وسیلہ کے ذریعہ متوسل ھوا: جب اللہ سے کسی عمل کے ذریعہ قربت حاصل کی تو اس نے کسی عمل یا وسیلہ کے سھارے اللہ سے توسل کیا: یعنی اس نے ایسا عمل انجام دیا کہ اس کے ذریعہ اللہ سے قریب ھوگیا)
لغت میں”وسیلہ“ کے مختلف معنی بیان کئے گئے ھیں:
۱(ع) نزدیک ھونا ۔
۲(ع) بادشاہ کے نزدیک مقام و منزلت۔
۳(ع) درجہ ۔
۴(ع) میل و رغبت کے ساتھ کسی چیز تک پھونچنے کے لئے چارہ جوئی کرنا۔
۵(ع) ھر وہ چیز جس کے ذریعہ دوسرے سے نزدیک ھونا ممکن ھو۔[1]

توسل فطرت و طبیعت کی نگاہ سے

اس میں کوئی شک نھیں کہ انسان اپنے مورد نیاز معنوی و مادی کمالات کو حاصل کرنے کا محتاج ھے، زمین و آسمان سے لیکر ہزاروں جمادات و نباتات انسان و حیوان درکار ھوتے ھیں تاکہ انسان اس کائنات کے آثار و خواص وجودی کے ذریعہ اپنے نقائص و کمیوں کو دور کرے اور کچھ کمالات مادی و معنوی کو حاصل کرے۔
یھی قاعدہ تمام موجودات کے لئے جاری و ساری ھے، یعنی ھر ایک موجود ایک طرح سے دوسرے موجودات کی طرف دست نیاز دراز کئے ھوئے ھیں اور فعل و انفعال اور تاثیر و تاثر میں ایک دوسرے کے محتاج ھیں۔
اور یہ وھی قانون ”توسل“ ھے جو ایک تکوینی حقیقت اور مسلّم طبیعت ھے کہ خلقتِ نظام عالم اور عالم انسانیت میں برقرار اور ھر جگہ مشھود و عیاں ھے۔
اور کوئی با شعور انسان چاھے اس کا شعور مادی ھو یا الہٰی اس قانون کو جاری کرنے میں کسی طرح کی تردید محسوس نھیں کرتا اور موجودات کے تاثیر کا منکر نھیں ھے۔
جبکہ ھم لوگ جانتے ھیں کہ: پیاسا انسان ٹھنڈا پانی پینے سے سیراب ھو جاتا ھے اوردوا بیمار کے لئے شفابخش ھوتی ھے اور زھریلی چیزیں سالم افراد کی جان خطرے میں ڈال سکتی ھیں، اور اسی طرح جاھل افراد استاد کی تعلیم سے عالم بن جاتے ھیں اور فقیر مالدار کی بخشش سے غنی ھوجاتے ھیں برسات میں بادل پانی برساتا ھے اور وہ پانی زمین کو سر سبز کرتا ھے جانور سبزہ زار سے اپنے پیٹ بھرتے ھیں اور جانور خود حیات انسانی کی بقا کے سبب بنتے ھیں۔
اور اسی طرح کائنات کی تمام چیزیں سلسلے وار ایک دوسرے کے لئے موٴثر اور ایک دوسرے سے متاثر ھیں یھاںتک کہ مادی انسان تمام اشیا ء و خواصِ موجودات کو ایک دوسرے کے لئے معلول طبیعت جانتا ھے ،لیکن ایک مسلمان تمام اشیاء کی طبیعت و اجسام کی ترکیب کائنات کے نظم و نسق میں خدائے علیم و حکیم کو مستند و اصل جانتا ھے ایک ایسی تدبیر جو کہ :
چشمہ از سنگ برون آرد و باران از میغ
انگبین از مگس نحل و در از دریا بار
پاک و بی عیب خدائی کہ بہ تقدیر عزیز
ماہ و خورشید مسخر کند و لیل و نھار
پادشاھی نہ بدستور کند یا گنجور
نقشبندی نہ بہ شنگرف کند یا زنگار
بھر حال کائنات میں موجودہ نظام اور قوانین حاکم (توسل) اور قانون (تسبب) ھیں یعنی اس کا مطلب یہ ھے کہ ھر کمال اور خواہش کو پورا ھونے کے لئے، اصل طبیعت کے قانون سے، وسیلہ کے دائرہ میں ھے اور سبب کو حاصل کرنے پر موقوف ھے۔[2]

توسل قرآن کی نظر میں

قرآن مجید انسانی فطرت کے مطابق نازل ھوا ھے،اسی وجہ سے (توسل) کے موضوع کو ھدف اور توحید تک پھنچنے کے لئے ایک مسلم راستے کے عنوان سے تعارف کرایا ھے۔
اس لئے اصل توسل کا انکار حقیقت میں عالم طبیعت کے اصل اصول کے انکار کرنے کے برابر ھے اور قوانین فطرت کو نادیدہ شمار کرنا ھے۔
( قُرب خدا)عبودیت و بندگی کی راہ میں انسان کے لئے قرب خدا ایک عالی ترین اور شریف ترین کمال ھے جس کی قرآن نے نشان دھی کی ھے ،ارشاد ھوتا ھے:
”یَا اَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوْا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ ابْتَغُوا اِلَیہِ الوَ سِیْلَةَ وَ جَاھِدُوا فِی سَبِیلِہِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ“[3]
اے ایمان لانے والو! تقوی الہٰی اختیار کرو اور اللہ تک پھنچنے کے لئے وسیلہ تلاش کرو اور اللہ کی راہ میں جھاد کرو شاید تم نجات پا جاوٴ۔
اور اسی طرح دوسری جگہ ارشادھوتا ھے:
قُلِ ادْعُوا الَّذِینَ زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِہِ فَلَایَملِکُونَ کَشْفَ الضُّرِّ عَنکُم وَ لَا تَحْوِیلاً اُولٰئِکَ الَّذِیْنَ یَدْعُونَ یَبتَغُونَ اِلٰی رَبِّہِمُ الوَسِیلَةَ اَیُّھُم اَقْرَبُ وَ یَرجُونَ رَحْمَتَہُ وَ یَخَافُونَ عَذَابَہُ اِنَّ عَذَاْبَ رَبِّکَ کَانَ مَحذُوراً ۔[4]
”یہ لوگ جن کی مشرکین(اپنا خدا سمجھ کر) عبادت کرتے ھیں ،وہ خود اپنے پروردگار کی قُربت کے ذریعہ ڈھونڈتے پھر تے ھیں کہ (دیکھیں) ان میں سے کو ن زیادہ قربت رکھتا ھے اور اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے ڈرتے ھیں، ا س میں کوئی شک نھیں کہ تیرے پروردگار کا عذا ب ڈرنے کی چیز ھے“۔
یہ آیات شریفہ اس بات کی نشاندھی کرتی ھیں کہ تمام موجودات ، فرشتے اور پیامبران یا دوسری مخلوقات اللہ کے علاوہ سب کے سب اس سے کسب فیض (وسیلہ کی تلاش) کرتے ھیں، چاھے وہ اضطراری حالت میں ھو یا اختیاری حالت میں ، ھر طرح سے اس کی رحمت سے قریب اور عذاب کو دو رکرنے میں وسیلہ کی تلاش کرتے ھیں، تاکہ اس سے اور زیادہ قریب ھو جائیں :
”یَبتَغُونَ اِلٰی رَبِّہِمُ الوَسِیلَةَ اَیُّہُم اَقرَبُ“
رسول اللہ(ص) سے روایت کی گئی ھے کہ:آنحضرت(ص) نے فرمایا:
”اِسْئَلُُوا اللّٰہَ لِی بِالوَسِیلَةِ فَاِنَّہَا دَرَجَةٌ فِی الجَنَّةِ لاَیَنَالُہَا اِلاّٰ عَبدٌ وَ احِدٌ اَرجُو اَن اَکُونَ اَنَا ہُوَ“
میرے لئے اللہ سے وسیلہ کی دعا کرو کیونکہ جنت میں وسیلہ ایک ایسا درجہ ھے جو ایک بندہ کے علاوہ کسی کو نھیں مل سکتا میں امید کرتا ھوں کہ وہ ایک بندہ میں ھوں۔
اسی طرح رسول اللہ(ص) سے اذان سننے کے وقت کی دعا میںنقل ھوا ھے: ”۔۔۔ آتِ مُحَمَّداً الوَسِیلَةَ۔۔۔۔“ اے اللہ رسول اللہ(ص) کو درجہٴ وسیلہ پر فائز کر۔
حضرت امیر المومنین(ع) رسول اسلام(ص) کے لئے دعا کرتے وقت یہ فرماتے ھیں :”وَشَرِّفْ عِندَکَ مَنزِلَتَہُ وَ آتِہِ الوَسِیلَةَ۔۔۔“ اے خدا اپنے نزدیک رسول اسلام(ص) کی منزلت کو بزرگ قرار دے اور ان کو درجہٴ وسیلہ سے سرفراز فرما۔۔۔
غرض یہ کہ تمام کائنات یھاں تک کہ اشرف موجودات میں سے خود رسول اعظم(ص) ھیں وہ بھی خدا سے تقرب حاصل کرنے میں ”ابتغاء وسیلہ“ یعنی وسیلہ تلاش کرتے ھیں یہ اور بات ھے کہ آنحضرت(ص) کا وسیلہ دیگر ممکنات جھان کے وسیلہ سے بہت مختلف ھے اوروہ وسیلہ ھماری سعی اور کوشش سے بڑھ کر ھے۔
اسی لئے تمام موجودات جھان اپنے حدود کے دائرے میں رہ کر سب کے سب ایک دوسرے کے محتاج ھیں جیسا کہ خود قرآن کریم نے ارشاد فرمایا: ” یَبتَغُونَ اِلٰی رَبِّہِمُ الوَسِیلَةَ“یعنی وسیلہ کی تلاش میںر ھیں تاکہ اپنے پروردگار کا قرب حاصل کریں ، ھاں بس اسی لئے ھے کہ کائنات میں کوئی بھی موجود یہ صلاحیت نھیں رکھتاکہ رب حقیقی بن سکے یا مستقلاً مشکلات کو رفع کرسکے یامستقل طور پر کسی کو فیضیاب کرسکے۔
جبکہ معبودیت اور استقلال رحمت کے افاضہ کے لئے ، حکم عقل کے مطابق، قدرت مستقلہ اور موجود کے خصائص کی شان ”قائم بذات“ ھے اور وہ بھی ذات اقدس حضرت ”حق “ جل شانہ میں منحصر ھے اور بس۔
اور تمام موجودات جو کہ بذات خود فاقد ھستی و کمالات ھیں ضروری ھے کہ مبداٴ ھستی و منبع کمال سے ”ابتغاء وسیلہ“ کی راہ پر گامزن رھکر طلب فیض کریں ”اِتَّقُوا اللّٰہَ وَ ابْتَغُوا اِلَیہِ الْوَسِیلَةَ“۔
اور جیسا کہ ھم نے کھا کہ لغت میں ”وسیلہ“ کے مختلف معانی بیان کئے گئے ھیں ان میں مناسب ترین معنی گذشتہ دو آیات ( آیت ۳۵ سورہٴ مائدہ و آیت ۷۵ سورہٴ اسراء )میں سیاق کلام کے لحاظ سے وہ وھی پانچواں معنی ھے، یعنی ”ھر وہ چیز جس کے ذریعہ دوسرے سے نزدیک ھوا جاسکے“
مخصوصاً پھلی آیت میں کہ اولاً حکم ”ابتغاء وسیلہ“ کے بعد، راہ خدا میں جھاد کا حکم دیا گیا ھے اور ثانیاً ”تقویٰ“ و ”ابتغاء وسیلہ“ اور ”جھاد“ کے نتیجہ کو ”فلاح“ و کامیابی ، جملہٴ ”لعلکم تفلحون“ کے ذریعہ بیان کیا جا رھا ھے۔
اور یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ھے کہ فلاح و کامیابی ،وھی خدا کے قرب کا پا جانا ھے اور چونکہ ”مقصد“ اور ”نتیجہ“ میں مغایرت ھونی چاھیئے ضروری ھے کہ ”وسیلہ“ ایسی چیز ھوکہ آدمی کے لئے ممکن ھوسکے کہ اس کے ذریعہ ”قرب خدا“ و ”منزلت“ اور اس ”درجہ“ تک رسائی ھوسکے اور وہ وھی ”فلاح“ اور کامیابی ھے جو اس تک پھونچ سکے۔
اور اسی طرح جھاد کا حکم حقیقت میں اس کے درپے وسیلہ کا حکم ھے (چاھے جھاد کو کفار کے ساتھ قتال کے معنی میں لیں، یا مطلقاً راہ خدا میں کوشش و سعی کے معنی میں لیں) پھر بھی وسیلہ اس کے اھم مصداق میں سے ھے اور چونکہ یہ مسلّم ھے کہ خود ”جھاد“ قرب خدا کے لئے عینی و خارجی تحقق نھیں ھے بلکہ ”قرب“ کے لئے ایک سبب و مقدمہ ھے تو پھر اس کا مطلب یہ ھوا کہ ”وسیلہ“ اس مذکورہ آیت میں ”قرب“ و”درجہ“ اور ”منزلت“ و ”چارہ جوئی“ جو کہ وسیلہ کے لغوی معنی ھیں، نھیں ھے۔
بلکہ صحیح و مناسب معنی اس آیہٴ شریفہ کا وھی ھے جو پانچواںمعنی بیان کیا گیا ھے یعنی ”ھر وہ چیز جس کے ذریعہ خدا تک رسائی ھوسکے"
اور اس وجہ سے بھی کہ کلمہٴ ”وسیلہ“ آیہٴ شریفہ میں مطلق اور کسی قید و تقیید کے بغیر آیا ھے اس بات پر دلالت کرتا ھے کہ اس کے معنی میں وسعت و گستردگی ھے اور ھر طرح کا اعتقاد و عمل اور ھر چیز و ھر شخص جو کہ خدا سے ”قرب“ کرنے کی صلاحیت رکھتے ھیں، اطلاق ھوتا ھے، بطور مثال، ایمان ، پروردگار کی وحدانیت کا اعتقاد اور پیغمبروں کی رسالت کا اعتقاد و ایمان ،اور اسی طرح رسول اسلام(ص) کی پیروی و اطاعت ، واجبات کا انجام دینا مثلاً نماز، روزہ، حج، زکات و جھاد اور نادان لوگوں کو صلہٴ رحم کی ھدایت کرنا ، مریض کی عیادت کرنا وغیرہ نیک اور خداپسند اعمال یہ تمام کے تمام قرب خدا کے وسائل و اسباب ھیں۔
جیسا کہ مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں:
”اِنَّ اَفْضَلَ مَا تَوَسَّلَ بِہِ المُتَوَسِّلُونَ اِلٰی اللّٰہِ سُبْحَانَہُ ، اَلاِیمَانُ بِہِ وَ بِرَسُولِہِ وَ الجِہَادُ فِی سَبِیْلِہِ… وَ کَلِمَةُ الاِخْلاَصِ …وَ اِقَامِ الصَّلوةِ …وَ اِیتَاءِ الزَّکَوةِ …وَ صَوْمِ شَھرِ رَمَضَان…َ وَ حَجُّ البَیتِ وَ اِعتِمَارُہ ُ…وَ صِلَةُ الرَّحم…ِ وَ صَدَقَةُ السِّرِّ وَصَدَقَةُ العَلَانِیَّةِ …وَ صَنَائِعُ المَعرُوفِ“
بیشک وسیلہ تلاش کرنے والوں کے لئے بہترین وسیلہ خدا تک رسائی کی خاطر ، اللہ پر ایمان اور اس کے رسول پر ایمان اور اس کی راہ میں جھاد، کلمہٴ اخلاص، اقامہٴ نماز، اداء زکات، رمضان المبارک کا روزہ، حج بیت اللہ اور عمرہ، صلہٴ رحم ، اللہ کی راہ میں مخفی اور علناً طریقے سے صدقہ دینا، اور دیگرنیک اور خداپسند اعمال سب کے سب خدا تک پھونچنے کے وسیلہ ھیں۔
اور اسی طرح انبیاء کی ذوات مقدسہ، اولیا خدا و مقربین بارگاہ خداوندی، ان کی معرفت اور ان لوگوں سے محبت کرنا، دعا و شفاعت طلب کرنا ان کے ذریعہ تقرب تلاش کرنا، یا ان سے منسوب چیزوں کی تجلیل کرنا، کسی بھی طریقے سے کیوں نہ ھو، مراقد مطھرہ کی زیارت کرنا اور ان کی قبور شریفہ جو کہ مسلّم مصداق ”تعظیم شعائر اللہ“ ھے اور بندگان خدا سے محبت و مودت کی روشن ترین دلیل اور ھادیان راہ حق کی تعالیم و مکتب کو عظمت دینے کے برابر ھے۔
روشن ھے کہ یہ تمام مذکورہ چیزیں کلمہٴ ”وسیلہ“ کے ”اطلاق“ کے لحاظ سے سب کی سب اس وسیع و عام مفھوم میں داخل ھیں،یعنی ان تمام امور پر، یہ عنوان صدق آتا ھے ”مَا یَتَقَرَّبُ بِہِ اِلٰی اللّٰہِ“ یعنی جس کے ذریعہ اللہ سے قریب ھوا جاسکے اور اس کی رضا و خوشنودی کو حاصل کرسکیں۔
اس بنا پر کوئی ھمارے پاس دلیل یا سبب نھیں ھے کہ کلمہٴ وسیلہ کے ”اطلاق“ سے چشم پوشی کریں اور اس کے مفھوم کو ایک یا چند مفھوم کے لئے مخصوص کریں جیسا کہ ”ابن تیمیہ“ اور اس کے پیروکار ”وھابیوں“ نے بغیر کسی دلیل کے تقیید و تخصیص کی ھے۔
۱) رسول خدا(ص) پر ایمان اور آنحضرت(ص) کی پیروی ۔
۲) پیامبر اکرم(ص) کا دعا و شفاعت کرنا وہ بھی فقط دنیوی زندگی کے دوران اور روز قیامت میں۔
اور کبھی اس آیت کی تفسیر واجبات اور مستحبات کے لئے کرتے ھیں،اطلاق کے علاوہ آیہٴ شریفہ جیسا کہ ھر طرح کی تقیید سے خالی ھے اسلامی احادیث (چاھے شیعہ حضرات کے ذریعہ حدیث نقل ھوئی ھو یا اھل سنت کے ذریعہ) توسل کے عنوان پر روایات بہت زیادہ ھیںجو کمال ِوضاحت کے ساتھ وھی عام وسیع معنی کوثابت کرتی ھیں اور خدا سے تقرب جوئی و منبع و مرکز فیض سے اخذ برکات، صلحاء و مقربین بارگاہ خداوندی سے استغاثہ و استمداد چاھے کسی بھی حالت میں ھو، چاھے کسی بھی عنوان سے ھو، تائید اور تصدیق کرتی ھیں [5] بحث طولانی ھونے کی وجہ سے ھم یھاں پر ان روایات کو ذکر کرنا نھیں چاہتے، اس سے دلچسپی رکھنے والے حضرات کو کتب روائی اور کتب سیرت و کتب تاریخ اھل سنت اور اسی طرح کتاب ”وفاء الوفاء باخبار دار المصطفیٰ“ نوشتہٴ سمھودی کے مطالعہ کی دعوت دیتے ھیں۔


[1] کتاب ” توسل“ موٴلف سید محمد ضیاآبادی ،ص۲۷۔
[2] کتاب ” توسل“ موٴلف سید محمد ضیاآبادی ،ص۲۸۔
[3] سورہ مائدہ آیت ۳۵۔
[4] سورہ اسراء آیت۵۶، ۵۷)
[5] کتاب ” توسل“ موٴلف سید محمد ضیاآبادی ،ص۳۰۔

غیر اللہ کا حکم اور غیر اللہ کو پکارنے کا مسئلہ

بے شک خدا نے ہمیں خلق کیا ہے۔
دوسرا مسئلہ:
خدا اس بات سے راضی نہیں کہ اس کی عبادت میں کسی اور کو شریک قرار دیا جائے، نہ کسی مقرب فرشتے کو نہ ہی کسی نبی مرسل کو۔ اس بات کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:
وَاَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلّٰہِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰہِ اَحَدًا۔,۱
اور یہ کہ مساجد اللہ کے لئے ہیں لہذا اللہ کے ساتھ کسی کو نہ پکارو۔,۲
اسی کتاب کے صفحہ ۵ میں مرقوم ہے:
دین حنیف اور ملت ابراہیم یہ ہے کہ تم صرف خدائے واحد کی عبادت کرو، دین کو اس کے لئے خالص رکھتے ہوئے۔ اسی چیز کا حکم تمام انسانوں کو دیا گیا ہے اور اسی غرض کے لئے ان کی خلقت ہوئی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے خلق کیا ہے۔,3
یہاں یعبدون (وہ میری عبات کریں) سے مراد ہے:
یوحدونی (میری وحدانیت کا اقرار کریں)۔ خدا کے اوامر میں سب سے بڑا امر توحید کے متعلق ہے۔ توحید سے مراد ہے صرف خدا کی عبادت کرنا۔ اور خدا نے جن چیزوں سے منع کیا ہے ان میں سب سے اہم شرک ہے اور شرک سے مراد خدا کے ساتھ کسی اور کو پکارنا ۔(اس کے بعد سے لے کر مذکورہ کتاب کے صفحہ ۸ تک دیکھئے)
لب لباب یہ کہ مذکورہ دعوے کی دلیل یہ آیت ہے:
وَاَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلّٰہِ الخ
آگے چل کر مصنف اسی کتاب کے صفحہ ۴۶ میں لکھتے ہیں:
چھٹا قاعدہ: ہمارے زمانے کے مشرکین کا شرک سابقہ زمانے والوں کے شرک سے زیادہ سخت ہے کیونکہ سابقہ مشرکین خوشحالی کے دوران شرک کے مرتکب ہوتے تھے اور شدت کے وقت موحد بن جاتے تھے۔ لیکن اس دور کے مشرکین کا شرک دائمی ہے۔ خواہ خوشحال ہو ں یا مشکلات میں گرفتار۔ اس کی دلیل یہ آیت ہے:
فَاِذَارَ کِبُوْا فِی الْفُلْکِ دَعَوُا اللهَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَج فَلَمَّا نَجَّاھُمْ اِلَی الْبَرِّ اِذَاھُمْ یُشْرِکُوْنَ۔, 4
وہ جب کشتی پر سوار ہوتے ہیں تو اللہ کو خلوص کے ساتھ پکارتے ہیں پھر جب وہ انہیں نجات دے کر خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو وہ شرک کرنے لگتے ہیں۔
نیز انہوں نے اپنی کتاب الدین و شروط الصلا
ة ۳ کے صفحہ ۸ میں جو کہا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے:
عبادت کی بہت سی قسمیں ہیں۔ ان میں سے ایک دعا ہے۔ اس کی دلیل خدا کا یہ فرمان ہے:
۳ ملاحظہ فرمائیں رسالہ 
” الاصول الثلاثة مطبعة المدنی قاھرہ، الدین و شر و طنھا و غربا۔
وَاَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلّٰہِ الخ

اور شفاء الصدور نامی رسالہ جسے دار الافتاء العامہ نے 
”الجواب المشکور“ کے جواب میں شائع کیا ہے کے صفحہ ۳ میں مذکور ہے:
شرک کی تاریکیوں کو اس سر زمین (یعنی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ) سے دور کرنے والے، شرک کے میل کچیل کو پاک کرنے والے اور شرک کے تمام آثار کو مٹانے والے دعوت توحید کے علمبرداروں کے جانشین کی خدمت میں انہوں نے یہ مسئلہ پیش کیا,5
غیر اللہ کو پکارنے یا نہیں اللہ کے ساتھ پکارنے سے ان کی مراد یہ ہے کہ کوئی مسلمان 
”یارسول اللہ“ وغیرہ کہے یعنی حضور(ص) کو اللہ کے ہاں وسیلہ قرار دے یا حضور(ص) کے علاوہ خدا کے کسی اور ولی کو اس طرح پکارے۔ اس چیز کو شرک قرار دینے والوں کے دلائل کا محور خدا کا فرمان لَا تَدْعُوْا مَعَ اللهِ اور اس قسم کے وہ فرامین ہیں جن میں اللہ نے غیر اللہ سے مانگنے یا اللہ کے ساتھ غیر اللہ سے مانگنے سے منع کیا ہے۔ لیکن اس نظرئیے کے مخالفین کہتے ہیں کہ یہ استدلال خوارج کے استدلال سے مشابہت رکھتا ہے جنہوں نے جنگ صفین میں تحکیم(ثالثی) قبول کرنے والوں کو کافر قرار دینے کے لئے مذکورہ ذیل آیات وغیرہ سے استدلال کیا مثلاً:
اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِط عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُج وَعَلَیْہِ فَلْیَتَوَ کَّلِ الْمُتَوَکِّلُوْنَ۔6
حکم صرف اللہ ہی کا چلتا ہے۔ اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور بھروسہ کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔
اَفَغَیْرَ اللهِ اَبْتَغِیْ حَکَمًا وَھُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ اِلَیْکُمُ الْکِتَابَ مُفَصَّلًا۔7
کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو منصف بناؤں؟ حالانکہ اس نے آپ کی طرف مفصل کتاب نازل کی ہے۔اس کی ابتداء صفین سے ہوئی جب معاویہ نے عراقیوں کو صلح کی دعوت دینے کے لئے قرآن مجید کو نیزوں پر چڑھایا۔ یوں عراقی قاریوں کی اکثریت دھوکہ کھا گئی۔ انہوں نے حضرت علی(ع) کو جنگ بندی اور تحکیم کے لئے معاویہ کی دعوت قبول کرنے پر مجبور کیا پھر معاویہ نے اپنی طرف سے عمروبن عاص کو ثالث بنایا اور لشکر عراق نے حضرت علی(ع) کو مجبور کیا کہ آپ حضرت ابو موسیٰ اشعری کو اپنا ثالث بنائیں۔ جب دونوں ثالث جمع ہوئے تو عمر بن عاص نے ابو موسیٰ کو دھوکہ دینے کے لئے کہا:
ہم علی(ع) اور معاویہ دونوں کو معزول کر کے فیصلہ عوام پر چھوڑتے ہیں کہ وہ کسی کو اپنا رہبر چنیں۔
حضرت ابو موسیٰ اشعرینے عمرو بن عاص پر سبقت کرتے ہوئے کہا
میں علی(ع) اور معاویہ دونوں کو معزول کرتا ہوں تاکہ مسلمان اپنے لئے کسی کو امام منتخب کر لیں۔اس کے بعد عمرو بن عاص نے تأثر دینے کے لئے یہ اعلان کیا:
ابو موسیٰ اشعری نے اپنے امام کو معزول کر دیا ہے جیسا کہ تم سب نے دیکھ لیا لیکن میں اپنے ساتھی (معاویہ) کو عہدہ امامت پر برقرار کرتا ہوں۔
یہ سن کر وہ دونوں لڑ پڑے اور دونوں نے ایک دوسرے کو گالیاں دیں اور دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔ اس کے بعد عراقی لشکر میں تحکیم قبول کرنے والوں کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے یہ نعرہ بلند کیا:
لا حکم الا لله 
فیصلہ (کرنے کا حق) صرف خدا کے لئے ہے، اور بولے ہم نے تحکیم قبول کر کے کفر کیا پھر ہم تائب ہوئے۔ باقی لوگوں پر بھی واجب ہے کہ وہ اپنے کفر کا اقرار کریں اور پھر ہماری طرح توبہ کریں۔ جو لوگ ایسا نہ کریں وہ کافر ہیں۔
یوں انہوں نے پہلے توامیر المومنین علی المرتضیٰ (ع)، حضرت عائشہ، عثمان ، طلحہ، معاویہ، عمرو بن عاص اور ان کے حامیوں کو جو ان مسائل میں شریک تھے کافر قرار دیا اور پھر تمام مسلمانوں کے خلاف اپنی تلواروں کے ساتھ بر سر پیکار رہے۔ خود بھی قتل ہوتے رہے اور دوسروں کو بھی قتل کرتے رہے۔ ,8
یوں خوارج کے بارے میں حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان سچ ثابت ہوا کہ 
”وہ مسلمانوں سے جنگ کریں گے اور بت پرستوں کو دعوت دیں گے۔ اگر میرا سامنا ان سے ہوتا تومیں ضرور انہیں قوم عاد کی طرح قتل کرتا“۔ بہت سی دیگر احادیث میں مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: میں انہیں قوم ثمود کی طرح قتل کرتا۔ 9
ان دونوں مسئلوں میں مخالفین کا جواب
پہلے نظرئیے کے مخالفین یہ جواب دیتے ہیں کہ قرآن مجید کی آیات ایک دوسرے کی تفسیر کرتی ہیں۔ اگر قرآن نے ایک جگہ یہ کہا ہے:
ان الحکم الا لله 
”حکم اور فیصلہ تو صرف خدا کا ہے“ تو دوسری جگہ کہا ہے:
فَاِنْ جَآءُ وْکَ فَا حْکُمْ بَیْنَھُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْھُمْج وَاِنْ تُعْرِضْ عَنْھُمْ فَلَنْ یَّضُرُّوْکَ شَیْئًاط وَاِنْ حَکَمْتَ فَاحْکُمْ بَیْنَھُمْ بِالْقِسْطِ۔10
اگریہ لوگ آپ کے پاس (کوئی مقدمہ لے کر) آئیں تو ان میں فیصلہ کریں یا ٹال دیں (آپ کی مرضی) اور آپ نے انہیں ٹال دیا تو یہ لوگ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے اور آپ فیصلہ کرنا چاہیں تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیں۔
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کو اہل کتاب کے درمیان فیصلہ کرنے کا اختیار دیا ہے۔ ایک اور آیت میں خدا نے لوگوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے درمیان میں سے کسی کو ثالث بنائیں۔ چنانچہ ارشاد باری ہے:
وَاِنْ خِفْتُم ْشِقَاقَ بَیْنِھِمَا فَابْعَثُوْا حَکَمًا مِّنْ اَھْلِہوَحَکَمًا مِّنْ اَھْلِھَاج اِنْ یُّرِیْدَآ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللهُ بَیْنَھُمَا 11
اور اگر تمہیں میاں بیوں کے درمیان ناچاقی کا اندیشہ ہو تو ایک منصف مرد کے رشتہ داروں میں سے اور ایک منصف عورت کے رشتہ داروں میں سے مقرر کرو۔ اگر وہ دونوں اصلاح کی کوشش کریں تو اللہ ان کے درمیان اتفاق پیدا کرے گا۔
ان دونوں آیتوں کے درمیان کوئی منافات نہیں کیونکہ جب پہلی آیت نے یہ کہا کہ حکم
صرف اللہ کا ہے تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حکم اور فیصلے کا یہ دائرہ محدود ہے۔ جس طرح عدالتوں کے قاضیوں کے معاملے میں نظر آتا ہے۔ لیکن یہ حق حاصل نہیں ہوتا کہ کسی اور کو اپنی طرف قاضی مقرر کریں۔ یہ حق تو مقتدر اعلیٰ کو حاصل ہے۔ بنابریں قاضیوں کو محدود پیمانے پر فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ وہ صرف لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کے مجاز ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو لوگوں کے درمیان خود فیصلہ کرنے کا اختیار دے۔ یعنی اسے حق حاصل ہے کہ کسی کو اپنی طرف سے قاضی بنائے۔ بنابریں خدا کے لئے حکم اور فیصلے کا غیر محدود مطلقاً حق حاصل ہے۔ بنابریں جب انبیاء علیہم السلام فیصلہ کرتے ہیں تو حکم خدا سے فیصلہ کرتے ہیں۔ اسی طرح میاں بیوی کے درمیان فیصلہ کرنے والے ثالثی حضرات بھی حکم خدا کی رو سے ایسا کرتے ہیں۔ پس جب یہ فیصلہ کرنے والے حکم خدا کی رو سے فیصلہ کریں تو ان کا حکم نہ غیر اللہ کا حکم شمار ہو گا نہ ما سوی الله کا نہ دون اللہ کا نہ مع اللہ کا بلکہ ان کا فیصلہ عین حکم خدا اور اذن خدا کے تابع ہو گا۔
یہی حال قرآن کریم کی بعض دیگر آیات کا ہے جو خدا کی بعض صفات کو بیان کرتی ہیں۔ یہ آیات مبارکہ خدا کی ان صفات کو محدود پیمانے پر ثابت نہیں کرتیں بلکہ غیر محدود(مطلق) صفات کو ثابت کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر اللہ تعالیٰ کے لئے صفت 
”الملک“ کا اثبات۔
اللہ تعالیٰ اور صفت الملکخدا کے لئے اس کی صفتالملک کے اثبات کے معاملے میں ایک طرف سے فرمان خداوندی ہے:
وَلِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَاز وَاِلَیْہِ الْمَصِیْرُ 12
اور آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان موجود ہے سب پر اللہ کی حکومت ہے اور (سب کو) اسی کے طرف لوٹ کر جانا ہے
نیز ارشاد الہی ہے:
لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ یَکُنْ لَّہشَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ۔ 13
اور جس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا اور جس کی بادشاہی میں کوئی شریک نہیں ہے۔
اور دوسری طرف سے ارشاد خداوندوی ہے:
اَوْمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ۔ 14
جس کے تم مالک ہو ۔
اس طرح کی آیات کے درمیان کوئی منافات نہیں کیونکہ خدا خود فرماتا ہے:
قُلِ اللّٰھُمَّ مَالِکَ الْمُلْکِ تُو
ٴْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَآءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَآئُز وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآئُط بِیَدِکَ الْخَیْرُط اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۔ 15
کہہ دیجئے: اے اللہ! اے مملکت (ہستی) کے مالک تو جسے چاہے حکومت دیتا ہے اور جس سے چاہے حکومت چھین لیتا ہے اور تو جسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلیل کرتا ہے۔ بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔
پس جب ثابت ہو ا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو مالک بناتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ بندہ ملک میں اللہ کا شریک ہے نہ وہ ملکیت غیر اللہ کی ملکیت ہے نہ ماسوی اللہ کی اور نہ دون اللہ کی کیونکہ بندہ اور اس کی ساری ملکیت اس کے رب کی ملکیت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اذن سے بندے کا کسی چیز کا مالک بننا
” الملک اللہ“ کی واضح ترین مثال ہے کیونکہ خدا کی مالکیت بندے کی مالکیت کی طرح محدود نہیں ہے۔ بندے کی مالکیت خدا کی مشیت اور خدا کے اذن کی تابع ہے اس لئے محدود ہے۔ وہ زمان و مکان اور اختیار کے لحاظ سے اللہ کی معین کردہ حدود سے تجاوز کی طاقت نہیں رکھتا۔ یہی حال خدا کی ”خالقیت“ کا بھی ہے۔
خدا کا خالق اور محیی ہونا
خدا کی صفت خالق اور محیی کے بارے میں مذکورہ بحث کی گنجائش ہے کیونکہ خداوند ذوالجلال ہر چیز کا خالق ہے۔
وَخَلَقَ کُلَّ شَیْءٍ 16
ہر چیز کو اس نے پیدا کیا ہے۔
ھَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُاللهِ17
کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے؟
اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ 18
آگاہ رہو! آفرینش اسی کی اور امر بھی اسی کا ہے۔

نیز
وَھُوَالَّذِیْ یُحْیی وَیُمِیْتُ 19
اور وہی ہے جو زندگی دیتا ہے اور موت بھی۔
نیز فرمایا ہے:
فَاللهُ ھُوَ الْوَلِیُّ وَھُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰی۔ 20
پس سرپرست تو صرف اللہ ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے۔
ایک طرف سے ان آیات مجیدہ اور دوسری طرف سے حضرت عیسیٰ کو خلق کرنے اور زندہ کرنے کی اجازت عطا کرنے کے درمیان کوئی منافات نہیں ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ سے فرمایا :
وَ اِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنِ کَھَیْئَ
ةِ الطَّیْرِ بِاِذْنِیْ فَتَنْفُخُ فِیْھَا فَتَکُوْنُ طَیْرًا بِاِذْنِیْ وَ تُبْرِیٴُ الْاَکْمَہَ وَ الْاَبْرَصَ بِاِذْنِیْ ج وَ اِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتٰی بِاِذْنِیْ ج ۔ 21
اور جب آپ میرے حکم سے مٹی سے پرندے کا پتلا بناتے تھے پھر آپ اس میں پھونک مارتے تھے تو وہ میرے حکم سے پرندہ بن جاتا تھا اور آپ مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو میرے حکم سے صحت یاب کرتے تھے اور آپ میرے حکم سے مردوں کو ( زندہ کر کے) نکال کھڑا کرتے تھے ۔
کیونکہ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کو بناتا ہے تو اس کی مثال چیزیں بنانے والے آلات کی سی نہیں ہوتی جو محض اسی کام پر جتا رہتا ہے۔(منزہ ہے وہ ذات اس بات سے)اور نہ ہی اس کی مثال انسان جیسی ہے جو کام کے دوران کسی دوسرے کو کام کی طاقت نہیں دے سکتا بلکہ وہ ذات اس بات پر قادر ہے کہ انسانوں اور حیوانوں کو نر و مادہ کے ملاپ کے ذریعے زندگی عطا کرے نیز اس بات کی بھی قدرت رکھتا ہے کہ اپنے دست قدرت سے ماں باپ کے بغیر ہی اسے پیدا کرے جیسا کہ
آدمکو خلق کیا ہے۔ بالکل اسی طرح وہ حضرت عیسیٰ کو یہ طاقت دے سکتا ہے کہ وہ اس کے اذن سے کسی اور چیز کو خلق کریں۔ ان تمام مراحل میں خالق حقیقی اللہ ہی کی ذات ہے۔
بالکل یہی حال زندہ کرنے کے مسئلے میں بھی ہے کیونکہ وہ جس طرح قیامت کے دن بلاواسطہ زندہ کرنے کی طاقت رکھتا ہے اسی طرح اس بات پر بھی قادر ہے کہ اپنے پیغمبر عیسیٰ بن مریم کو زندہ کرنے کی طاقت دے تاکہ عیسیٰ اس کے اذن سے مردوں کو زندہ کریں۔
اللہ تعالیٰ اس بات پر بھی قادر ہے کہ بنی اسرائیل کی پیلی گائے کے بعض اعضاء کو مقتول کے بے جان بدن پر مارنے کو زندہ ہونے کا سبب قرار دے تاکہ مقتول زندہ ہو کر لوگوں کو اپنے قاتل کی خبر دے۔ ,22
پھر یہ بھی مد نظر رہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم نے جب پرندے کو خلق کیا اور مردے کو زندہ کیا تو یہ دونوں کام خدا کے اذن سے واقع ہوئے ہیں۔ بنا بریں جب حضرت عیسیٰ نے پرندے کو بنایا اور مردے کو زندہ کیا تو خدا کے ساتھ مل کر نہیں بنایا نہ ہی خدا کے ساتھ مل کر زندہ کیا۔ اور یہ دونوں کام غیر اللہ کے تھے نہ دون اللہ کے، بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے اذن سے خلق کیا اور زندہ کیا ہے۔
خدا کا ولی اور شفیع ہونا
اسی طرح خداوند عالم کے ولی اور شفیع ہونے کے بارے میں بھی بحث کی جا سکتی ہے۔ شفاعت کے مسئلے میں ایک طرف سے خدا کے ارشادات ملاحظہ فرمائیے۔
اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللهِ شُفَعَآئَط قُلْ اَوَلَوْ کَانُوْا لَا یَمْلِکُوْنَ شَیْئًا وَّلَا یَعْقِلُوْنَ۔ قُلْ لِلّٰہِ الشَّفَاعَ
ةُ جَمِیْعًاط لَہمُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ۔23
کیا انہوں نے اللہ کے سوا اوروں کو شفیع بنا لیا ہے؟ کہہ دیجئے: خوا وہ کسی چیز کا اختیار نہ رکھتے ہوں اور نہ ہی کچھ سمجھتے ہوں (تب بھی شفیع بنیں گے؟)۔ کہہ دیجئے: ساری شفاعت اللہ کے اختیار میں ہے۔ آسمان اور زمین کی بادشاہت اسی کی ہے پھر تم اسی کی طرف پلٹائے جاؤ گے۔
مَالَکُمْ مِّنْ دُوْنِہمِنْ وَّلِیٍّ وَّلَا شَفِیْعٍط اَفَلَا تَتَذَکَّرُوْنَ۔,24
اس کے سوا تمہارا نہ کوئی کارساز ہے اور نہ شفاعت کرنے والا۔ کیا تم نصیحت نہیں لیتے؟
لَیْسَ لَھُمْ مِّنْ دُوْنِہوَلِیٌّ وَّلَا شَفِیْعٌ۔,25
اللہ کے سوا نہ ان کا نہ کوئی کارساز ہو گا اور شفاعت کنندہ۔
وَذَکِّرْ بِہٓ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌم بِمَا کَسَبَتْق صلے لَیْسَ لَھَا مِنْ دُوْنِ اللهِ وَلِیٌّ وَّلاَ شَفِیْعٌ۔26
البتہ اس (قرآن) کے ذریعے انہیں نصیحت ضرور کریں مبادا کوئی شخص اپنے کئے کے بدلے پھنس جائے کہ اللہ کے سوا اس کا نہ کوئی کارساز ہو نہ ہی شفاعت کنندہ۔
اور دوسری طرف سے ارشاد خداوندی ہے:
مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْم بَعْدِ اِذْنِہ27
اس کی اجازت کے بغیر کوئی شفاعت کرنے والا نہیں ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:

مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہ ٓ اِلَّا بِاِذْنِہ۔28
کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے حضور سفارش کر سکے؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
یَوْمَئِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَ
ةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَرَضِیَ لَہقَوْلاً29
اس روز کسی کی شفاعت فائدہ نہ دے گی سوائے اس کے جسے رحمن اجازت دے اور اس کی بات کو پسند کرے۔
ارشاد الہٰی ہے:
وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَ
ةُ عِنْدَہ ٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَہ30
اللہ کے نزدیک کسی کی شفاعت فائدہ مند نہیں سوائے اس کےجسے اللہ نے اجازت دی ہو۔
ارشاد ہے:
لَا یَمْلِکُوْنَ الشَّفَاعَ
ةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَھْدًا۔31
کسی کو شفاعت کا اختیار نہ ہوگا سوائے اس کے جس نے رحمن سے عہد لیا ہو۔
فرمان الہٰی ہے:
وَلَا یَشْفَعُوْنَ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰی۔32
وہ فقط ان لوگوں کی شفاعت کر سکتے ہیں جن سے اللہ راضی ہے۔
ان درج بالا آیات مبارکہ کے درمیان کوئی منافات نہیں ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو شفاعت کی اجازت دیتا ہے تو یہ شفاعت اللہ کی ہے۔ یہی حال خد کی صفت 
”ولی“ کا بھی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ”ولی“ ہے
اسی طرح دوسری صفات کے علاوہ خداوند عالم ایک صفت کی ولی بھی ہے چنانچہ ارشاد قدرت ہے۔
اِنَّ اللهَ لَہُ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط یُحْیِ وَیُمِیْتُط وَمَا لَکُمْ مِنْ دُوْنِ اللهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِیْرٍ۔33
آسمانوں اور زمین کی سلطنت یقینا اللہ ہی کے لئے ہے۔ زندگی بھی وہی دیتا ہے اور موت بھی اور اللہ کے سوا تمہارا نہ کوئی کارساز ہے نہ مددگار۔
اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللهَ لَہمُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط وَمَا لَکُمْ مِنْ دُوْنِ اللهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِیْرٍ۔34
کیا تم نہیں جانتے کہ آسمانوں اور زمین کی سلطنت صرف اللہ ہی کے لئے ہے؟ اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی کارساز و مددگار نہیں۔
اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْ ٓا اَنْ یَّتَّخِذُوْا عِبَادِیْ مِنْ دُوْنِیٓ اَوْلِیَآئَط اِنَّآ اَعْتَدْنَا جَہَنَّمَ لِلْکَافِرِیْنَ نُزُلاً 35
کیا یہ کافر خیال کرتے ہیں کہ وہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو سرپرست بنائیں گے؟ ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے مہمان سراء بنا کر تیار رکھا ہے۔
اور دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا ہے:
اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللهُ وَرَسُوْلُہوَالَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلوٰ
ةَ وَیُوٴْتُوْنَ الزَّکٰوةَ وَھُمْ رَاکِعُوْنَ 36
تمہارا ولی تو صرف اللہ اور اس کا رسول اور اہل ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکو
ة دیتے ہیں۔
ان آیات مبارکہ کے درمیان بھی کوئی منافات نہیں ہے۔ بنا بریں اگر ہم کہیں کہ اللہ ، رسول(ص) ،نماز قائم کرنے والے اور رکوع میں زکات دینے والے ہمارے ولی ہیں تو اس سے شرک لازم نہیں آئے گا۔ کیونکہ حقیقی ولی تو اللہ ہے اور اسی نے ان دونوں کو یہ ولایت عطا کی ہے جس طرح اس نے والد کو اپنے فرزند پر ولایت عطا کی ہے۔
تمام مذکورہ صفات کے معاملے میں جس طرح یہ کہنا صحیح ہے کہ اللہ ہی حاکم ، مالک ، شفیع اور ولی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں کے لئے بھی مالک ، حاکم، شفیع ااور ولی کہنا درست ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے ہی اپنے خاص بندوں کو یہ صفات عنایت فرما دی ہیں لہذا انہیں ولی کہنا کوئی قباحت نہیں رکھتا۔
روحوں کو قبض کرنے والا کون ہے؟
درج بالا گفتگو کو سمجھنے کے لئے ہم سب سے واضح مثال یہاں پیش کرتے ہیں ۔ ارشاد خداوندی ہے:
اَلَّذِیْنَ تَتَوَفَّاھُمُ الْمَلٰٓئِکَ
ةُ ظَالِمِیْٓ اَنْفُسِھِمْ 37
فرشتے جن کی روحیں اس حالت میں قبض کرتے ہیں کہ وہ اپنے نفس پر ظلم کر رہے ہوں۔
اَلَّذِیْنَ تَتَوَفَّاھُمُ الْمَلٰٓئِکَ
ةُ طَیِّبِیْنَ یَقُوْلُوْنَ سَلَامٌ عَلَیْکُمُ38
جن کے روحیں فرشتے پاکیزہ حالت میں قبض کرتے ہیں (اور انہیں) کہتے ہیں: تم پر سلام ہو۔
تَوَفَّتْہُ رُسُلُنَا وَھُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ 39
ہمار بھیجے ہوئے (فرشتے) اس کی روح قبض کر لیتے ہیں اور کوتاہی نہیں کرتے۔
قُلْ یَتَوَفَّاکُمْ مَّلَکُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُکِّلَ بِکُمْ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمْ تُرْجَعُوْنَ۔40
کہہ دیجئے: موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے تمہاری روحیں قبض کرتا ہے پھر تم اپنے رب کی طرف پلٹائے جاؤ گے۔
اَللهُ یَتَوَفَّی الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِھَا 41
موت کے وقت اللہ روحوں کو قبض کرتا ہے۔
ان آیات کی روشنی میں اگر کوئی شخص یہ کہے کہ فرشتے موت کے وقت خدا کے اذن سے لوگوں کی روحیں نکال لیتے ہی تو وہ نہ جھوٹا کہلائے گا اور نہ ہی مشرک۔ اور اگر کوئی یہ کہے کہ ملک الموت
”عزرائیل“ موت کے وقت خدا کے اذن سے جانیں نکال لیتا ہے تو یہ نہ جھوٹ ہو گا نہ شرک۔ ان دونوں باتوں اور اس بات کے کہ موت کے وقت لوگوں کی روحیں خدا قبض کر لیتا ہے کوئی منافات نہیں ہے۔ ان تمام صورتوں میں روحوں کا قبض کرنے والا خدا کے علاوہ کوئی نہیں اور نہ ہی اس امر میں کوئی خدا کا شریک ہے بلکہ خدا ہی روحوں کو قبض کرتا ہے۔,42 اور یہی حال ہے خدا کی دیگر صفات کا جن کا تذکرہ سابقہ صفحات میں گزر چکا ہے۔
حوالہ جات
۱ سورة الجن آیت ۱۸
۲ رسالہ 
”الاصول الثلاثة“ طبع مطبعة المدنی قاہرہ ۱۳۸۰ھ، رسالہ ”الدین و شروطھا“ طبع قاہرہ
3 سور
ة الذاریات ۔آیت ۵۶
4 سور
ة العنکبوت آیت ۶۵-
5 رسالہ شفاء الصدور طبع اول موسس
ة النور للطباعة والتجلید۔
6 سور
ة یوسف آیت ۶۷
7 سور
ة الانعام آیت۱۱۵
8 جنگ صفین کے حالات اور خوارج کی سرگذشت کا مطالعہ کرنے کے لئے ملاخطہ ہو تاریخ طبری، تاریخ کامل ابن اثیر، البدایہ و النھایہ وغیرہ۔
9 صحیح مسلم باب ذکر الخوارج و صفاتھم حدیث نمبر ۱۴۳،۱۴۴،۱۴۵،۱۴۶
10 سور
ة المائدہ آیت ۴۲
11 سور
ة النساء آیت ۳۵
12 سور
ة المائدہ آیت ۱۸
13 الاسراء آیت ۱۱۱، الفرقان آیت۲
14 سور
ة النساء آیت۳،۲۴،۲۵،۳۶
15 سور
ة آل عمران آیت۲۶
16 سور
ة الانعام ۱۰۲
17 سور
ة فاطر آیت ۳
18 سور
ة الاعراف آیت ۵۴
19 سور
ة مومنون آیت ۸۰
20 سور
ة الشوری آیت ۹
21 سور
ة المائدہ آیت۱۱۰
22 اشارہ ہے سور
ة بقرہ کی آیات نمبر ۶۷ تا ۷۳ کی طرف
23 سور
ة الزمر آیت ۴۳،۴۴
24 سور
ة السجدة آیت ۴
25 سور
ة الانعام آیت ۵۱
26 سور
ة الانعام ۷۰
27سور
ة یونس آیت۳
28 سور
ة البقرة آیت ۲۵۵
29 سور
ة طہ آیت ۱۰۹
30سور
ة سبأ آیت ۲۳
31 سور
ة مریم آیت ۸۷
32 سور
ة الانبیاء آیت ۲۸
33 سور
ة التوبہ آیت ۱۱۶
34 سور
ة البقرة آیت ۱۰۷
35 سور
ة الکہف آیت ۱۰۲
36 سور
ة المائدہ آیت ۵۵
37 سور
ةالنحل آیت ۲۸
38 سور
ة النحل آیت ۳۲
39 سور
ة الانعام آیت ۶۱
40 سور
ة السجدہ آیت ۱۱
41 سور
ة الزمر آیت ۴۲
42 یہ استدلال حضرت علی (ع) کے قول کے ماخوذ ہے جسے شیخ صدوق نے کتاب التوحید باب الرد علیٰ الثنویہ و الزنادق
ة صفحہ ۲۴۱ میں نقل کیا ہے

Saturday, February 14, 2015

اولیاء اللہ کووسیلہ قراردینا٬ توحید الهی کے مخالف نهیں

توسل سے مراد یہ نھیں ھے کہ انسان پیامبر اکرم (ص)یا ائمہ علیھم السلام سے مستقل طور پر کوئی چیز طلب کرے بلکہ توسل سے مراد یہ ھے کہ اعمال صالحہ یا پیغمبر اور امام کی اطاعت و پیروی کے ذریعہ یا ان حضرات کی شفاعت یا خداوندعالم کو ان حضرات کے عظیم مرتبہ کی قسم دے کر( جو خود ایک طرح سے ان کی عظمت اور بلندی کا احترام کرنا ھے اور ایک طرح سے خداکی عبادت ھے) خداوندعالم سے کوئی چیز مانگی جائے تو اس میں نہ کسی طرح کا کوئی شرک ھے اور نہ ھی یہ قرآنی آیات کے مخالف ھے۔
اس کے علاوہ قرآنی آیات سے واضح طور پر معلوم ھوتا ھے کہ خداوندعالم کو کسی صالح اور نیک انسان کی عظمت کا واسطہ دے کر اس سے کوئی چیز طلب کرنے میں کوئی قباحت نھیں اور توحید خدا سے بھی منافی نھیں ھے، جیسا کہ سورہ نساء میں ارشاد ھوتا ھے:
<وَلَوْ اٴَنَّہُمْ إِذْ ظَلَمُوا اٴَنفُسَہُمْ جَاوٴُکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللهَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمْ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللهَ تَوَّابًا رَحِیمًا>[1]
”اور کا ش جب ان لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا تو آپ کے پاس آتے اور خود بھی اپنے گناھوں کے لئے استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے حق میں استغفار کرتا تو یہ خدا کو بڑا ھی توبہ قبول کرنے والا اور مھربان پاتے“۔

توسل اور اسلامی روایات

توسل کے سلسلہ میں اھل سنت اور شیعہ کتابوں میں بہت سی روایات بیان ھوئی ھیں جن سے مکمل طور پر یہ بات واضح ھوجاتی ھے کہ توسل اور وسیلہ قرار دینے میں کوئی اشکال نھیں پایا جاتا، بلکہ ایک نیک کام ھے، اس سلسلہ میں بہت زیادہ روایات ھیں اور بہت سی کتابوں میںنقل بھی ھوئی ھیں، ھم نمونہ کے طور پراھل سنت کی مشھور و معروف کتابوں سے چند روایات کو نقل کرتے ھیں:
۱۔ مشھور ومعروف سنی عالم دین ”سمھودی“ اپنی کتاب ”وفاء الوفاء“ میں رقمطراز ھیں: پیغمبر اکرم (ص)یا آپ کی عظمت و بزرگی کے واسطہ سے خدا کی بارگاہ میں مدد طلب کرنا، شفاعت چاھنا ، آنحضرت کی خلقت سے پھلے بھی جائز تھا ،آپکی پیدائش کے بعد اور آپکی وفات کے بعد ، عالم برزخ اور روز قیامت میں بھی جائز ھے، اس کے بعد حضرت عمر بن خطاب سے روایت نقل کرتے ھیں کہ حضرت آدم علیہ السلام نے پیغمبر اکرم (ص)سے توسل کیا: جناب آدم علیہ السلام پیغمبر اکرم کی خلقت کے بارے میں علم حاصل کرنے کے بعد خداوندعالم کی بارگاہ میں اس طرح عرض کرتے ھیں:
”یَا ربِّ اٴسئلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ لِمَا غَفرتَ لِی“[2]
”پالنے والے! تجھے محمد( (ص))کا واسطہ، تجھ سے سوال کرتا ھوں کہ مجھے معاف کردے“۔
اس کے بعد اھل سنت کے مشھور و معروف دانشوروں جیسے ”نسائی“ اور ”ترمذی“ سے ایک حدیث نقل کرتے ھیں او ر اس کو توسل کے جواز پر شاھد کے عنوان سے نقل کرتے ھیں، جس حدیث کا خلاصہ یہ ھے:ایک نابینا شخص نے پیغمبر اکرم (ص)سے اپنی بیماری کی شفاء کے لئے درخواست کی تو پیغمبر اکرم (ص)نے حکم دیا کہ اس طرح دعا کرو:
”اَللَّھُمَّ إنِّی اٴسئلُکَ وَاٴتَوجَّہُ إلَیْکَ بِنَیِّکَ مُحَمَّد نَبِیِّ الرَّحمةِ یَا مُحمَّد إنِّی تَوجھتُ بِکَ إلیٰ ربّي فِی حَاجَتِی لِتقضی لِي اٴللَّھُمَّ شَفِّعْہُ فِيّ“[3]
”پالنے والے! تیرے پیغمبر رحمت کے واسطہ سے تجھ سے درخواست کرتا ھوں اور اے محمد! آپ کی طرف متوجہ ھوتا ھوں اور آپ ھی کے واسطہ سے اپنی حاجت روائی کے لئے خدا کی بارگاہ میں متوجہ ھوتا ھوں، پالنے والے! آنحضرت (ص) کو میرا شفیع قرار دے“۔
اس کے بعد پیغمبراکرم (ص)کی وفات کے بعد توسل کے جواز کو ثابت کرنے کے لئے یوں بیان کرتے ھیں: حضرت عثمان کے زمانہ میں ایک حاجت مند پیغمبر اکرم (ص)کی قبر کے نزدیک آیا اور اس نے نماز پڑھی اور اس طرح دعا کرنے لگا:
”اَللَّھُمَّ إنِّی اٴسئلُکَ وَاٴتَوجَّہُ إلَیْکَبِنَبِیِّنَا مُحَمَّد نَبِیِّ الرَّحمةِ یَا مُحمَّد إنِّی اٴتوجہ إلیٰ رَبکَ اَنْ تَقْضي حَاجَتِي“.
”پالنے والے! تیری بارگاہ میں پیغمبر اکرم( (ص))، پیغمبر رحمت کے وسیلہ سے درخواست کرتا ھوں اور تیری طرف متوجہ ھوتا ھوں، اے محمد! آپ کے وسیلہ سے خدا کی بارگاہ میں متوجہ ھوتا ھوں تاکہ میری مشکل آسان ھوجائے“۔
کچھ ھی دیر گزری تھی کہ اس کی مشکل آسان ھوگئی۔[4]
۲۔ ”التوصل الی حقیقة التوسل“ کے موٴلف مختلف منابع و مآخذ سے ۲۶ احادیث نقل کرتے ھیں جن سے توسل کا جائز ھونا سمجھ میں آتا ھے، اگرچہ موصوف نے ان احادیث کی سند میں اشکال کرنا چاھا ھے، لیکن یہ بات واضح ھے کہ جب روایات زیادہ ھوجاتی ھیں اور تواتر[5] کی حد تک پھنچ جاتی ھیں تو پھر سند میں اشکال و اعتراض کی گنجائش نھیں رہتی، اور مخفی نہ رھے کہ توسل کے سلسلہ میں احادیث تواتر کی حد سے بھی زیادہ ھیں، ان کی نقل کی ھوئی روایات میں سے ایک یہ ھے:
”ابن حجر مکی“ اپنی کتاب ”الصواعق المحرقہ“ میں اھل سنت کے مشھور و معروف”امام شافعی“ سے نقل کرتے ھیں کہ انھوں نے اھل بیت پیغمبر سے توسل کیا اور اس طرح کھا:
آل النَبِيّ ذَریعَتِي وَھُمْ إلَیہ وَسیلتي
اٴرْجُوْبِھمْ اٴعطي غَداً ِبیَدِ الیَمِینِ صَحِیفَتِي[6]
”آل پیغمبر میرا وسیلہ ھیں ، اور وھی خدا کی بارگاہ میں میرے لئے باعث تقرب ھیں “
” میں امیدوار ھوں کہ ان کے وسیلہ سے میرا نامہ اعمال میرے داھنے ھاتھ میں دیا جائے“
اسی طرح ”بیہقی“ بھی نقل کرتے ھیں کہ ایک مرتبہ خلیفہ دوم کی خلافت کے زمانہ میں قحط پڑا، جناب بلال چند اصحاب کے ساتھ پیغمبر اکرم (ص)کی قبر مبارک پر آئے اور اس طرح عرض کی:
”یَا رَسُولَ الله استسق لاٴمّتک ۔۔۔ فَإنَّہُم قَد ہَلَکُوا ۔۔۔“ [7]
”یا رسول اللہ! اپنی امت کے لئے باران رحمت طلب فرمائیے ۔۔۔ کیونکہ آپ کی امت ھلاک ھوا چاہتی ھے“۔
یھاں تک کہ ابن حجر اپنی کتاب ”الخیرات الحسان“ میں نقل کرتے ھیں کہ ”امام شافعی“ بغداد میں قیام کے دوران ”ابو حنیفہ“کی زیارت کے لئے جاتے تھے، اور اپنی حاجتوں میں ان کو وسیلہ بناتے تھے اور ان سے متوسل ھوتے تھے۔[8]
نیز ”صحیح دارمی“ میں ”ابی الجوزاء“ سے نقل ھوا ھے کہ ایک سال مدینہ میں بہت سخت قحط پڑگیا، بعض افراد جناب عائشہ کی خدمت میں جاکر شکایت کرنے لگے، اور ان سے درخواست کی کہ قبر پیغمبر کی چھت میں سوراخ کردیا جائے تاکہ قبر پیغمبر کی برکت سے خداوندعالم باران رحمت نازل فرمادے، چنانچہ ایسا ھی کیا گیا اور اس وقت بہت زیادہ بارش ھوئی!
تفسیر ”آلوسی“ میں اس سلسلہ میں بہت سی احادیث نقل ھوئی ھيں اور پھر ان احادیث کا مفصل طریقہ سے تجزیہ و تحلیل کرنے کے بعد اور مذکورہ احادیث میں بہت سخت رویہ اختیار کرنے کے بعد ان کا اعتراف کرتے ھوئے اس طرح کہتے ھیں:
”اس گفتگو کے تمام ھونے کے بعد میرے نزدیک کوئی مانع نھیں ھے کہ خداوندعالم کی بارگاہ میں پیغمبر اکرم (ص)کو وسیلہ قرار دیا جائے، چاھے پیغمبر اکرم کی زندگی میں ھو یا آنحضرت کے انتقال کے بعد “ موصوف اس سلسلہ میں کافی بحث کرنے کے بعد مزید فرماتے ھیں: ”خداوندعالم کی بارگاہ میں پیغمبر کے علاوہ کسی دوسرے سے توسل کرنے میں بھی کوئی ممانعت نھیں ھے، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ پیغمبر کے علاوہ جس کو خدا کی بارگاہ میں وسیلہ بنایا جائے اس کا مرتبہ خدا کی نظر میں بلند و بالا ھو۔ [9]
لیکن شیعہ منابع و مآخذ میں وسیلہ اور توسل کا موضوع اس قدر واضح ھے کہ اس کو بیان کرنے کی (بھی) ضرورت نھیں ھے۔

چند ضروری نکات:

(قارئین کرام!) یھاں پر چند نکات کی طرف توجہ کرنا ضروری ھے:
۱۔ توسل اور وسیلہ سے یہ مراد نھیں ھے کہ پیغمبر اکرم (ص)یا ائمہ معصومین علیھم السلام سے کوئی شخص اپنی حاجات طلب کرے ، بلکہ مراد یہ ھے کہ خدا کی بارگاہ میں پیغمبر اکرم (ص)اور ائمہ معصومین علیھم السلام کی عظمت اور بلندی کے ذریعہ متوسل ھو، اور یہ کام درحقیقت خداو ندعالم کی طرف توجہ کرنا ھے، کیونکہ پیغمبر اکرم (ص)کا احترام بھی خداکی وجہ سے ھے کہ آپ خدا کے رسول ھیں، اس کی راہ پر چلے، ان باتوں کے باوجود ان لوگوں پر تعجب ھوتا ھے جو اس طرح کے توسل کو شرک کی ایک قسم کہہ دیتے ھیں جبکہ شرک یہ ھے کہ خدا کی صفات اور اس کے اعمال میں کسی کو شریک مانیں ، جبکہ اس طرح کا توسل شرک سے کوئی شباہت نھیں رکھتا۔
۲۔ بعض لوگوں نے اس بات کی بہت کوشش کی ھے کہ پیغمبر اکرم (ص)اور ائمہ علیھم السلام کی حیات اور وفات میں فرق قراردیں ، حالانکہ مذکورہ روایات جن میں بہت سی روایات وفات کے بارے میں ھیں؛ لہٰذا ان کے پیش نظر مسلمانوں کا عقیدہ یہ ھے کہ انبیاء اور صالحین وفات کے بعد ”برزخی حیات “ رکھتے ھیں جو کہ دنیاوی زندگی سے وسیع تر ھے جیسا کہ شھداء کے بارے میں وضاحت کے ساتھ بیان ھوا ھے کہ ان کو مردہ تصور نہ کرو وہ زندہ ھیں اور خدا کی طرف سے رزق پاتے ھیں۔[10]
۳۔ بعض لوگ اس بات پر اصرار کرتے ھیں کہ پیغمبر اکرم (ص)سے دعا کی درخواست اور خدا کی بارگا ہ میں ان کی عظمت کی قسم دینے میں فرق ھے، لہٰذا دعا کی درخواست کو جائز اور خدا کی بارگاہ میں ان کی عظمت کی قسم دینے کو حرام جانتے ھیں، حالانکہ ان دونوں کے درمیان کسی بھی طرح کا کوئی منطقی فرق دکھائی نھیں دیتا۔
۴۔ بعض علمائے اھل سنت خصوصاً ”وھابی علماء“ اپنی خاص ہٹ دھرمی کی بنا پر کوشش کرتے ھیں کہ وسیلہ اور توسل کے بارے میں بیان ھونے والی تمام احادیث کو ضعیف اور کمزور ثابت کرڈالیں، اس سلسلہ میں بے بنیاد اعتراضات کرتے ھیں جو درحقیقت بہت پرانے ھوچکے ھیں، جن کو مدّ نظر رکھتے ھوئے ایک انصاف پسند انسان یہ محسوس کرتا ھے کہ ان لوگوں نے پھلے اپنا عقیدہ معین کرلیا ھے اور پھر اپنے عقیدہ کو اسلامی روایات پر ”تھوپنا“ چاہتے ھیں، اور ایسا ھی کرتے ھیں اور جو کچھ ان کے عقیدہ کے خلاف ھوتا ھے اس کو چھوڑدیتے ھیں، جبکہ ایک تحقیق کرنے والا محقق انسان اس طرح کی غیر منطقی اور تعصب آمیز بحث کو قبول نھیں کرسکتا۔
۵۔ ھم بیان کرچکے ھیں کہ توسل کے سلسلہ میں بیان شدہ روایات حدّ تواتر تک پھنچی ھوئی ھیں، یعنی اس قدر ھیں کہ ان کی سند میں بحث کی کوئی ضرورت نھیں رہتی، اس کے علاوہ ان کے درمیان بہت زیادہ صحیح روایات بھی ھیں، لہٰذا ان کی اسناد میں اعتراض و اشکال کی گنجائش ھی نھیں رہتی۔
۶۔ ھم نے جو کچھ بیان کیا ھے اس سے واضح ھوجاتا ھے کہ آیہٴ شریفہ کے ذیل میں بیان ھونے والی روایات کا مفھوم یہ ھے کہ پیغمبر اکرم نے اصحاب سے فرمایا: ”خداوندعالم سے میرے لئے ”وسیلہ“ طلب کرو“ یا جیسا کہ اصول کافی میں حضرت علی علیہ السلام سے منقول ھے کہ بھشت میں وسیلہ سب سے بلند و بالا مقام ھے، اور جیسا کہ ھم نے آیت کی تفسیر میں بیان کیا ھے؛ ان کے درمیان کسی طرح کا کوئی فرق نھیں ھے کیونکہ ھم نے بارھا عرض کیا ھے کہ ھر طرح کے تقربِ خدا پر ”وسیلہ“ صادق آتا ھے اور پیغمبر اکرم (ص)کے ذریعے تقرب خداحاصل کرنے کانام وسیلہ ھے جو کہ جنت میں سب سے بلند و بالا مقام ھے۔[11]
[1] سورہ نساء ، آیت ۶۴۔
[2] وفاء الوفاء ، جلد ۳، صفحہ ۱۳۷۱۔ کتاب (التوصل الی حقیقة التوسل میں ، صفحہ ۲۱۵ ،مذکورہ حدیث کو -” دلائل النبوة“ میں بیہقی نے بھی نقل کیا ھے۔
[3] وفاء الوفاء ،صفحہ۱۳۷۲۔
[4] وفاء الوفاء ، صفحہ ۱۳۷۳۔
[5] علم حدیث میں ”حدیث تواتر“ اس حدیث کو کھا جاتا ھے جس کے راویوں کی تعداد اس حد تک ھو کہ ان کی ایک ساتھ جمع ھوکر سازش کا قابل اعتماد احتمال نہ ھو۔ (مترجم)
[6] التوصل الی حقیقة التوسل، صفحہ ۳۲۹۔
[7] التوصل الی حقیقة التوسل، صفحہ ۳۵۳۔
[8] التوصل الی حقیقة التوسل، صفحہ ۳۳۱۔
[9] روح المعانی ، جلد ۴۔۶، صفحہ ۱۱۴۔ ۱۱۵۔
[10] سورہٴ آل عمران ، آیت۱۶۹۔
[11] تفسیر نمونہ ، جلد ۴، صفحہ ۳۶۶۔

کیا یا علی(ع) مدد کہنا شرک ہے؟؟ توسل کیا ہے؟

امام حسن عسکری علیہ السلام کے پندونصائح حکم اورمواعظ میں سے چند نمونہ یہ ہیں:
۱ ۔ دوبہترین عادتیں یہ ہیں کہ اللہ پرایمان رکھے اورلوگوں کوفائدے پہنچائے۔
۲ ۔ اچھوں کودوست رکھنے میں ثواب ہے۔
۳ ۔ تواضع اورفروتنی یہ ہے کہ جب کسی کے پاس سے گزرے توسلام کرے اورمجلس میں معمولی جگہ بیٹھے۔
۴ ۔بلاوجہ ہنسنا جہالت کی دلیل ہے۔
۵ ۔پڑوسیوں کی نیکی کوچھپانا، اوربرائیوں کواچھالناہرشخص کے لیے کمرتوڑدینے والی مصیمقام شیعان علی علیہ السلام روز محشر : : : : : :سلیمان دیلمی کا کہنا ہے: میں امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں تھا کہ ابو بصیر سانس پھولے ہوئے وارد خانہ ہوئے جب بیٹھ گئے امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: کیوں سانس پھولی ہے؟عرض کیا : اے فرزند رسول ! میرا سن زیادہ ہو گیا ہے دماغ کی ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور موت اب نزدیک ہے اس حال میں کہ مجھے نہیں معلوم آخرت میں میرا کیا انجام ولایت علی صلوات اللہ علیہ”ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ (ﺹ) ﮐﺎ ﻓﺮﻣﺎﻥ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻋﻠﯽ (ص) ﻧﮧ ﮬﻮﺗﮯ ﺗﻮ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻣﻌﺮﻓﺖ ﻧﮧ ﮬﻮﺳﮑﺘﯽ ﻧﮧ ﺍﺳﮑﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮬﻮﺗﯽ ﻧﮧ ﺛﻮﺍﺏ ﻭ ﻋﺬﺍﺏ – ﻋﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﺮﺩﮦ ﺣﺎﺋﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﻮﺳﮑﺘﺎ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﺧﺪﺍ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﯽ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﭘﺮﺩﮦ ﮬﯿﮟ – ﺧﺪﺍ ﻧﮯ ﺟﺴﮑﺎ ﺩﻝ ﭘﺎﮎ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺎ ﺟﻦ ﮬﻮ ﯾﺎ ﺍﻧﺲ ﺍﺳﮯ ﻭﻻﯾﺖ ﻋﻠﯽ (ص) ﮐﯽ ﻣﻌﺮﻓﺖ ﮐﺮﺍﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺴﮑﮯ ﺩﻝ ﮐﻮ ﺍﻧﺪﮬﺎ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﺍﺳﮯ ﺍﻧﮑﯽ ﻣﻌﺮﻓﺖ ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﺭﮐﮭﺎ- ﺍﺱ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﺟﺴﮑﮯ ﻗﺒﻀۂ ﻗﺪﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﻥ ﮬﮯ ﺁﺩﻡ ﮐﯽ ﺧﻠﻘﻌﺖ ﭘﮭﺮ ﺍﻧﮑﯽ ﺗﻮﺑﮧ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﻭ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﺒﻮﺕ ﺍﻭﺭ ﻭﻻﯾﺖ ﻋﻠﯽ (ص) ﮐﺎ ﺍﻗﺮﺍﺭ ﮬﮯ – ﺍﺳﮑﯽ ﺫﺍﺕ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﺟﺴﮑﮯ ﻗﺒﻀۂ ﻗﺪﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﻥ ﮬﮯ ﺍﺑﺮﺍﮬﯿﻢ (ص) ﮐﺎ ﻣﻠﮑﻮﺕ ﺯﻣﯿﻦ ﻭ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﺎ ﻧﻈﺎﺭﮦ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﺧﻠﯿﻞ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺧﻄﺎﺏ ﻋﻄﺎ ﮬﻮﻧﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﺒﻮﺕ ﺍﻭﺭ ﻋﻠﯽ (ص) ﮐﯽ ﻭﻻﯾﺖ ﮐﮯ ﺍﻗﺮﺍﺭ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺗﮭﺎ – ﺍﺳﮑﯽ ﻗﺴﻢ ﺟﺴﮑﮯ ﻗﺒﻀﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﻥ ﮬﮯ ﺧﺪﺍ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﯽ ﻭ ﻋﯿﺴﯽ ﮐﻮ ﻋﺎﻟﻤﯿﻦ ﮐﯿﻠﮱ ﻧﺸﺎﻧﯽ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﺒﻮﺕ ﺍﻭﺭ ﻋﻠﯽ (ص) ﮐﯽ ﻭﻻﯾﺖ ﮐﮯ ﺍﻗﺮﺍﺭ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮬﮯ – ﺍﺱ ﺫﺍﺕ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﺟﺴﮑﮯ ﻗﺒﻀﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﻥ ﮬﮯ ﻣﺨﻠﻮﻕ ، ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﺗﻮﺟﮧ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻋﺒﺪﯾﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻌﺪ ﻋﻠﯽ ﺍﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐ ﮐﯽ ﻭﻻﯾﺖ ﮐﮯ ﺍﻗﺮﺍﺭ ﺳﮯ.ﺣﻮﺍﻟﮧ: ﺑﺤﺎﺭ ﺍﻷﻧﻮﺍﺭ – ﺍﻟﻌﻼﻣﺔ ﺍﻟﻤﺠﻠﺴﻲ – ﺝ ٤٠ – ﺍﻟﺼﻔﺤﺔ ٩٦
شیعہ کا کلمہ لاالہ الااللہ محمد الرسول اللہ علی ولی اللہ وصی رسول اللہ وخلیفتہ بلا فصل یعنی ہم کلمہ میں تین گواہیاں دیتے ہیں۔ اللہ ایک ہے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور علی (ع) اللہ کے ولی اور وصی رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ہیں اور بغیر کسی فاصلہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلیفہ ہیں۔
اب ہم ان تینوں گواہیوں پر قرآن سے صریح حکم ثابت کرتے ہیں۔
قرآن مجید پارہ نمبر 6 سورۃ المائدہ کی آیہ 55 میں ارشاد ہوتا ہے۔انما ولیکم اللہ و رسولہ والذین امنو الذین یقیمون الصلوۃ ویوتون الزکوۃ وھم راکعون
ترجمہ:۔ سوائے اس کے نہیں کہ تم لوگوں کا اللہ ولی ہے اور اس کا رسول(ص) اور وہ ایمان والے جو نماز کو قائم کرتے ہیں اور بحالتِ رکوع زکٰوۃ دیتے ہیں۔
اس آیت میں بھی تین گواہیاں بیان ہو رہی ہیں دو تو واضح ہیں تیسری مخفی ہے مگر اتنی مخفی بھی نہیں کہ صاحبِ عقل انسان کو سمجھ نہ آئے اب ذرا اہلِ سنت کی درج ذیل کتب میں ملاحظہ فرمائیں کہ یہ آیت دراصل حضرت علی علیہ اسلام کی شان میں نازل ہوئی۔
1:۔ تفسیر جامع البیان ابنِ جریر طبری مطبوعہ دارالمعارف مصر جلد 10 صفحہ 225
2:۔ تفسیر حافظ ابنِ کثیر دمشقی مطبوعہ مصر جلد 3 صفحہ 329
3:۔ تفسیرِ خازن مطبوعہ مصر جلد اول صفحہ 506
4:۔ تفسیر درمنثور سیوطی مطبوعہ مصر جلد 2 صفحہ 293
5:۔ تفسیرِ حسینی (فارسی) مطبوعہ نولکشور لکھنو جلد اول صفحہ 150
6:۔ تفسیرِ قادری (اردو ترجمہ تفسیر حسینی) مکتبہ مصطفائی کشمیری بازار لاہور جلد اول صفحہ 245
7:۔ منتخب کنزالعمال بر حاشیہ مسند حنبل مطبوعہ مصر جلد 5 صفحہ 38
اب تیسری گواہی بھی ہمیں مل گئی یعنی علی ولی اللہ تو اب ذرا ناصبی حضرات اپنے گریبان میں منہ ڈالیں اور وہاں سے تعصب علی علیہ اسلام کی سیاہی نکال کر حق یا علی (ع) کا نعرہ لگائیں۔