Sunday, March 22, 2015

: حضرت فاطمہ زہراء سلام الله علیہا کے یوم شہادت

حضرت فاطمہ زہراء سلام الله علیہا کی شہادت کی تاریخ پر امام زمانہ(ع)، مراجع عظام اور تمام محبان اہل بیت علیہم السلام کو تعزیت و تسلیت پیش کرتا ہے۔ ملکہ کائنات کے یوم شہادت ہم حضرت فاطمہ زہراء سلام الله علیہا کا کچھ دیر تحریری ذکر کرتے ہیں: 
ولادت نور: 
آپ کی پیدائش بعثت کے پانچویں سال میں ۲۰/ جمادی الثانی کو مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ آپ کے والد ماجد حضرت محمد مصطفےٰ صلی الله علیہ وآلہ وسلم اور والدہ جناب خدیجة الکبریٰ ہیں ۔ جناب خدیجہ وہ خاتون ہیں پیغمبر اسلام پر سب سے پہلے ایمان لائیں اور پوری زندگی آپ کا دفاع کرتی رہیں۔ 
جب حضرت زہرا سلام الله علیہا کا نور اس دنیا میں آیا تو پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کا دل شاد ہوگیا ۔ پیغمبر اسلام (ص) جانتے تھے کہ میری نسل فقط فاطمہ کے ذریعہ ہی آگے بڑھے گی اس لئے وہ ان سے بے حد محبت کرتے تھے اور احتراماً آپ کو ”ام ابیہا“ کہہ کر خطاب فرماتے تھے۔ 
پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے اذیت پہونچائی ۔ “ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کا روز کامعمول تھا ک جب نماز صبح کے لئے تشریف لے جاتے تھے تو حضرت زہرا سلام الله علیہا کے دروازے کی چوکھٹ کو پکڑ کر فرماتے تھے: ”السلام علیک یا اہل بیت النبوة، انما یرید الله لیذہب عنکم الرجس اہل البیت ویطہرکم تطہیراً“ 
آپ کا کوثر قرار پانا: 
حضرت زہرا سلام الله علیہا نے اس سماج میں آنکھیں کھولیں جس میں لڑکی کے پیدا ہونے کی خبر سن کر باپ غصہ سے کانپنے لگتے تھے اور ان کے چہروں کا رنگ بدل جاتا تھا۔ یہ وہ سماج تھا کہ اگر اس میں کسی انسان کے فقط بیٹیاں ہی ہوتی تھیں تو اسے بے اولادا سمجھا جاتا تھا اور اس زمانہ کے دنیا پرست انسان اسے ایک عیب تصور کرتے تھے ۔ 
لیکن پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک دوسرا مسئلہ یہ بھی تھا کہ آپ کے بارے میں لوگوں کا یہ خیال تھا کہ چونکہ آپ کے کوئی اولاد نہیں ہے لہٰذا جب آپ دنیا سے چلے جائیں گے تو آپ کی نسل ختم ہو جائے گی اور آپ کی نبوت کا بھی کوئی نام ونشان باقی نہ رہے گا۔ 
اولاد نہ ہونے کی بنا پر آپ کی مذمت کرنے والا عاص بن وائل تنہا انسان نہیں تھا بلکہ وہ اس پورے جاہل اور انسانی اقدار مخالف سماج کا ترجمان تھا جو اپنی طاقت کے ساتھ پیغمبر اسلام اور الٰہی تعلیم کی مخالفت کر رہا تھا ۔ 
ان تمام برائیوں اور آخری پیغمبر کی نبوت کے مٹ جانے کے بیہودہ خیالوں کے جواب میں الله نے پیغمبر کو کوثر (فاطمہ)عطا کیا ۔ اور آپ کی شان میں سورہٴ کوثر نازل فرمایا۔ اگر اس سورہ کی تفسیر خیر کثیر بھی کی جائے تب بھی یہ سورہ حضرت زہرا سلام الله علیہا کی ذات پر منطبق ہوگا۔ کیونکہ پیغمبر اسلام اور حضرت علی علیہ السلام کی نسل سے گیارہ امام حضرت زہرا سلام الله علیہا کے ہی بیٹے ہیں۔ اور حجت خدا حضرت امام مہدی علیہ السلام جن کے وجود سے الله اس جہان کو عدل و انصاف سے پر فرمائے گا وہ بھی آپ کے ہی بیٹے ہیں۔ آج ہمیں دنیا کے ہر کونے میں پیغمبر اسلام کی اولاد نظر آرہی ہے جن میں بہت سے جید علماء بھی ہیں یہ سب اولاد حضرت زہرا سلام اللهعلیہا ہی ہیں۔ 
یہ خیر کثیر ، یہ کوثر،اور یہ پاک و پاکیزہ نسل قیامت تک اسی طرح جاری رہے گی خدا کا شکر کہ پیغمبر کی نسل ہر روز بڑھتی ہی جا رہی ہے ۔ 
پیغمبر اسلام کے جگر کا ٹکڑا: 
اپنے بچوں سے ہر انسان محبت کرتا ہے، یہ ایک فطری چیز ہے اور اسے ثابت کرنے کے لئے کسی استدلال کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔ یہ اس جذبہٴ محبت کانتیجہ ہے جس کو الله نے ہر انسان کے وجود میں ودیعت فرمایا ہے ۔ اسی وجہ سے ماں باپ رات بھر جاگ کر تمام پریشانیاں برداشت کرتے ہیں ۔ اپنے بچوں کو آرام پہونچانے کی خاطر ہر طرح کی مصیبت کو گلے لگا لیتے ہیں ۔ البتہ یہ محبت ہر انسان میں الگ الگ درجہ میں پائی جاتی ہے ۔ کچھ لوگوں میں بہت کم ، کچھ لوگوں میں ضروری حد تک اور کچھ میں بہت زیادہ۔ 
بہت زیادہ محبت دو وجہ سے ہوسکتی ہے: 
(۱) جہالت و نادانی کی بنا پر: ایسی محبت سے بچے بگڑ جاتے ہیں اور یہ محبت ان کے لئے نفع بخش نہ ہو کر مضر ثابت ہوتی ہے ۔ 
(۲) اولاد میں پائی جانے والی خوبیوں کے سبب: ایسی محبت بچوں کی قدردانی کی دلیل ہے اور اس محبت کی وجہ سے ان کے اندر پائی جانے والی صلاحتیں اجاگر ہوتی ہیں۔ 
یہ بات روز روشن کی طرح آشکار ہے کہ پیغمبروں میں جہالت و نادانی نہیں پائی جاتی۔ خاص طور پر خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفےٰ صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں تو اس چیز کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ آپ اشرف مخلوقات اور عقل کل ہیں۔ آپ کا ہر عمل عقل و حکمت کی بنیاد پر ہوتا ہے ۔ 
جو انسان آخری پیغمبر کی شکل میں انسانوں کی ہدایت کے لئے آیاہو، نہ وہ بیہودہ باتیں کر سکتا ہے اور نہ ہی کسی بات کو مبالغہ کے ساتھ بیان کرسکتا ہے۔ بلکہ وہ ایسا سچا اور امین ہوتا ہے کہ خداوند عالم قرآن کریم میں اس کے اخلاق و کرادر کی تعریف کرتا ہوا کہتا ہے کہ” آپ خلق عظیم کی منزل پر فائز ہیں۔“ 
اس مقدمہ کو بیان کرنے کے بعد اب ہم پیغمبر اسلام کے اس جملہ کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے حضرت زہرا سلام الله علیہا کے بارے میں فرمایا کہ فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے اذیت پہونچائی ۔ 
آپ کا ”ام ابیہا “ قرار پانا: 
عربوں میں رسم ہے کہ ہر انسان کی ایک کنیت ہوتی ہے اور وہ احتراماً ایک دوسرے کو اسی کنیت سے پکارتے ہیں ۔ پیغمبراسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم حضرت زہرا سلام الله علیہا کا اتنا احترام کرتے تھے کہ آپ کا نام نہیں لیتے تھے بلکہ آپ کو آپ کی کنیت ام ابیہا سے خطاب فرماتے تھے۔ ام ابیہا یعنی اپنے باپ کی ماں۔ کیونکہ پیغمبر اسلام کی والدہ کا آپ کے بچپن میں ہی انتقال ہوگیاتھا اس لئے آپ اپنی ماں کے بعد حضرت فاطمہ بنت اسد یعنی حضرت علی علیہ السلام کی والدہ سے بہت محبت کرنے لگے تھے اور آپ ہی کو ماں کہتے تھے ۔ جب ان کا انتقال ہو توپیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم بہت غمگین ہوئے اور فرمایا کہ آج میری ماں اس دنیا سے رخصت ہوگئی۔ 
اس کے بعد الله نے پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کو فاطمہ عطا فرمائی۔ جب آپ فاطمہ کو دیکھتے تھے تو آپ کو فاطمہ بنت اسد یاد آجاتی تھیں اور آپ فاطمہ کی شکل میں انھیں کو دیکھنے لگتے تھے۔ اسی لئے آپ نے حضرت زہرا سلام الله علیہا کے لئے” ام ابیہا“ کنیت کا انتخاب فرمایا۔ ہاں! حضرت زہرا سلام الله علیہا پیغمبر اسلام کی بیٹی ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کی ماں کے مثل بھی تھیں۔ 
حضرت زہرا سلام الله علیہا کی شادی: 
جب حضرت زہرا سلام الله علیہا جوان ہوئیں تو انسان کامل میں پائے جانے والے تمام کمالات آپ کی ذات میں موجود تھے۔ چمکتا ہوا چہرہ ، نیک اخلاق، خاندانی شرافت، کلام کی فصاحت و بلاغت اور دیگر تمام کمالات جن کی تعداد سے الله آگاہ ہے ، آپ میں پائے جاتے تھے۔ ان ذاتی کمالات کے علاوہ سب سے بڑھ کر یہ تھا کہ آپ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی تھیں۔ اس لئے بہت سے اشراف و غیر اشراف انسان آپ سے شادی کے متمنی تھے ۔ 
ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنھیں اس بات کا یقین تھا کہ پیغمبر اسلام فاطمہ کی شادی ہمارے ساتھ کرنے پر راضی ہو جائیں گے، مگر ایسا نہیں ہوا۔ ان میں سے ایک امیدوار ابوبکر بھی تھے لیکن پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے ان کے جواب میں فرمایا: ” میں ابھی الله کے فیصلہ کا منتظرہوں۔“ 
عمر نے بھی اپنی تمنا کا اظہار کیا مگر انھیں بھی وہی جواب سننا پڑا جو پہلے سن چکے تھے ۔ انس بن مالک نے نقل کیا ہے کہ عبد الرحمٰن بن عوف اور عثمان بن عفان پیغمبر کے پاس آئے ، عبد الرحمٰن نے عرض کیاکہ آپ فاطمہ کی شادی میرے ساتھ کر دیجئے، میں مہر میں دس ہزار دینار اور مصر کے قیمتی کپڑے سے لدے ہوئے کالے رنگ کے ہری آنکھوں والے ایک سو اونٹ دوں گا۔ 
عثمان نے کہا کہ میں بھی اتنا مہر دینے کے لئے تیار ہوں آپ مجھ پر لطف فرمائے کیونکہ میں نے عبد الرحمٰن سے پہلے اسلام قبول کیا ہے۔ یہ سن کر پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کو جلال آگیا اور آپ نے کچھ سنگریزے اٹھا کر عبد الرحمٰن کی طرف پھینکے اور فرمایا تو میرے سامنے اپنی دولت پر فخر کرتا ہے ؟ وہ سب سنگریزے موتیوں میںتبدیل ہوگئے اور ان میں کا ایک ایک در عبد الرحمٰن کی تمام دولت سے زیادہ قیمتی تھا۔ 
ابھی حضرت زہرا سلام الله کی شادی نہیں ہوئی تھی کہ پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کو مکہ سے ہجرت کرنی پڑی اور وہ مدینہ جاکر آبادہوگئے۔ وہاں پر حضرت علی علیہ السلام پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں رہتے تھے اور آپ کی عمر بیس سال ہو چکی تھی۔ آپ پیغمبر اسلام پر ایمان لانے والے سب سے پہلے انسان تھے اور آپ کی ذات اتنے کمالات کامرکز تھی کہ لوگ ان کی وجہ سے آپ سے حسد کرنے لگے تھے۔ آپ اپنے کمالات کی بنا پر تمام انسانوں میں اس طرح نمایاں تھے جیسے آسمان پر سورج نمایاں رہتا ہے۔ 
حضرت علی علیہ السلام و حضرت زہرا سلام الله علیہا دونوں ایک خاندان سے تھے تو کیا حضرت زہرا کے لئے حضرت علی علیہ السلام سے ، اور حضرت علی علیہ السلام کے لئے حضرت زہرا سلام الله علیہا سے بہتر شریک حیات ہو سکتا تھا؟ نہیں ہر گز نہیں۔ تو پھر کیا وجہ تھی کہ حضرت علی علیہ السلام نے پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے سامنے فاطمہ زہرا سلام الله علیہا سے شادی کی تمنا ظاہر نہیں کی؟ 
کچھ روایتوں میں ملتا ہے کہ آپ نے اپنی غربت کی وجہ سے ایسا نہیں کیا۔ لیکن یہ بات بالکل غلط ہے ۔ کیونکہ حضرت امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے :”اگر الله نے حضرت علی علیہ السلام کو پیدا نہ کیا ہوتا تو حضرت زہرا کا کوئی کفو نہ ہوتا۔“ ابن مسعود نے روایت کی ہے کہ پیغمبر اسلام نے فرمایا: ”الله نے مجھے فاطمہ کی شادی علی ﷼ کے ساتھ کرنے کا حکم دیا ہے ۔“ کچھ بھی ہو ایک دن ایسا آہی گیا کہ حضرت علی علیہ السلام نے پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس تمنا کا اظہار فرمایا ۔ 
زوجہٴ رسول جناب ام سلمہ فرماتی ہیں کہ ایک دن میرے کانوں میں دروازہ کھٹکھٹائے جانے کی آواز آئی ۔ میں نے پوچھا کون ہے؟ اس سے پہلے کہ میں کوئی جواب سنتی پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جاؤ دروزاہ کھولو اور کہو کہ اندر آجاؤ،کیونکہ آنے والا وہ ہے جس سے الله اور اس کا رسول محبت کرتاہے اور وہ بھی الله اور اس کے رسول سے محبت کرتاہے۔ اسی دوران علی علیہ السلام گھر میں داخل ہوئے اور پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے حضرت زہرا سلام الله علیہا کے ساتھ شادی کے سلسلہ میں بات چیت کی ۔ ام سلمہ فرماتی ہیں کہ میں نے دیکھا کہ یہ سن کر پیغمبر کا چہرہ خوشی سے کھل گیا اور آپ نے فرمایا: ”اس سے پہلے کہ میں زمین پر فاطمہ کی شادی علی سے کروں ، آسمان پر الله نے فاطمہ کی شادی علی سے کردی ہے۔“ جو بھی ہوا ہو یہ مبارک شادی ہوگئاور حضرت زہرا سلام الله علیہا کا مہر چارسو اسی درہم قرارپایا ۔ جیسے حضرت علی علیہ السلام نے اپنی زرہ بیچ کر ادا کیا۔ 
پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے اس رقم کو چند حصوں میں تقسیم فرمایا: 
ایک سو ساٹھ درہم عطر کے لئے۔ایک سو ساٹھ درہم لباس کے لئے۔ چھیاسٹھ درہم گھر کے سامان کے لئے اورچھیانوے درہم جناب ام سلمہ کو دئے کہ انھیں دیگر اخراجات کے لئے اپنے پاس رکھو۔ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے اس مختصر سامان کو خریدنے کے لئے کچھ لوگوں کو معین فرمایا۔ ہم یہاں پر حضرت علی علیہ السلام اور حضرت زہرا سلام الله کے گھر کے سامان کی تفصیل بیان کرتے ہیں تاکہ مسلمان لڑکے اور لڑکیاں اسے نمونہٴ عمل قرار دیں اور محبت پر مبنی بابرکت زندگی کے مفہوم کو اچھی طرح سمجھ سکیں۔ 
(۱) لباس سات درہم 
(۲) چارد چاردرہم 
(۳) مقنعہ چار درہم 
(۴) کھجور کی پتیوں کا بنا تکیہ 
(۵) دوگدے جن میں سے ایک میں بھیڑ کی اون اور دوسرے میںکھجور کی پتیاں بھری ہوئی تھیں۔ 
(۶) چار چمڑے کے تکیے جن میں اذخر نامی خوشبودار گھاس بھری ہوئی تھی۔ 
(۷) ایک نازک اونی پردا 
(۸) ایک چٹائی 
(۹) جو پیسنے کے لئے ایک چکی 
(۱۰) کپڑے دھونے کا تشت 
(۱۱) ایک لکڑی کا پیالہ 
(۱۲) پانی کا جگ 
(۱۳) ایک صراحی 
(۱۴) ایک لوٹا 
(۱۵) ایک سبز رنگ کا سفالی کا مٹکا 
(۱۶) چندمٹی کے برتن 
(۱۷) ایک چمڑے کا گدا 
(۱۸) ایک چارد 
یہ حضرت زہرا سلام الله علیہا کا جہز تھا جو پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے سامنے لایا گیا۔ پیغمبر اسلام نے تمام چیزوں کو ہاتھوں میں لے کر دیکھا اور فرمایا: ”الله اس سامان کو اہل بیت کے لئے مبارک قرارد ے۔“ 
ایک روایت میں یہ بھی ملتا ہے کہہ آپ نے فرمایا: ” اے لله ! اس سامان کو اہل بیت کے لئے مبارک قرار دے کہ اس میںاکثر برتن سفالی کے ہیں۔ 
حضرت علی علیہ السلام نے حضرت زہرا کی آمد پر جو انتظام فرمایا تھا اس کی تفصیل یہ ہے: 
(۱) سونے کے کمرے میں باریک و نرم ریت بچھا دیا گیا تھا۔ 
(۲) کمرے کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے لئے دونوں دیواروں کے بیچ ایک لکڑی لگا دی گئی تھی ۔ 
(۳) گوسفند کی کھال بچھا کر اس پر کھجور کی پتیوں سے بنا ایک تکیہ رکھ دیا گیا تھا ۔ 
(۴) دیوار میں ایک کھونٹی گاڑ کر اس پر ایک تولیہ لٹکا دیا گیا تھا ۔ 
(۵) ایک صراحی کا انتظام کیا گیا تھا۔ 
(۶) آٹا چھاننے کے لئے ایک چھنی مہیا کی گئی تھی۔ 
یہ تھا دین و دنیا کے امیر حضرت علی علیہ السلام کے گھر کا سرمایہ۔ 
ہاں! حضرت علی علیہ السلام اور حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شادی بڑی سادگی کے ساتھ ہوئی تھی۔ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے ولیمہ کرکے حضرت زہرا سلام الله علیہا کو حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ رخصت کردیا تھا۔ 
اس مبارک گھر کی بنیادجس طرح رکھی گئی اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ 
اس شادی کے نتیجہ میں جومبارک اولاد وجود میں آئی ان کے نور نے اس دنیا کو اس طرح منور فرمایا کہ اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔ ہر انسان بخوبی واقف ہے۔ ہم یہاں پر فقط حضرت زہرا سلام الله علیہا کی اولاد کے ناموں کو بیان کررہے ہیں: ۳ ئھ ․ق میں ۱۵/رمضان المبارک کو حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام ، ۴ ئھ․ق میںتین شعبان المعظم کو حضرت امام حسین علیہ السلام ، ۶ ئھ․ق میں حضرت زینب سلام الله علیہااور پھر جناب ام کلثوم اس دنیا میں تشریف لائیں ۔ ان چار اولادکے علاوہ آپ کے ایک محسن نامی بیٹے بھی تھے۔ جو اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی اس وقت شہید ہوگئے تھے جب ظالموں نے حضرت زہرا سلام الله علیہا پر دروازہ گرایا تھا اور آپ درو دیوار کے پس گئیں تھیں۔ 
حضرت زہرا سلام الله علیہا کے فضائل قرآن میں: 
قرآن کریم میں حضرت زہرا سلام الله علیہا کی شان میں بہت سی آیتیں نازل ہوئی ہیں ان میں سے بعض کی طرف ہم اس مقالہ میں اشارہ کررہے ہیں۔ 
(۱) سورہٴ دہر: 
شیعہ و سنی دنوں فرقوں کی کتابوں میں یہ روایت موجود ہے کہ ایک مرتبہ حسنین علیہم السلام بیمار ہوئے ، پیغمبر اسلام ان کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اور ان کی حالت دیکھ کر بہت رنجیدہ ہوئے ۔ آپ نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا کہ کیا اچھا ہو کہ اگر ان بچوں کی صحت کے لئے نذر مانی جائے! 
حضرت علی علیہ السلام نے بچوں کے صحت یاب ہونے پر تین روز روزہ رکھنے کی نذر مانی ، حضرت زہرا سلام الله علیہا اور گھر کی کنیز نے بھی یہی نذر کی۔ 
حسنین علیہم السلام کے شفایاب ہونے پر نذر کو پورا کیا گیا ۔ حضرت علی علیہ السلام، حضرت زہرا سلام الله علیہا اور فضہ نے روزہ رکھا۔ حضرت علی علیہ السلام کے گھر میں افطا رکے لئے کچھ نہ تھا ۔ حضرت کا ایک پڑوسی اون کا کاروبار کرتا تھا لوگ اس سے کچا مال لے جاتے اور اون تیار کرکے دیتے تھے اور اس کام کے بدلہ اپنے کام کی مزدروی حاصل کرتے تھے۔ حضرت بھی اس کے پاس گئے اوراس سے اس معاملہ پر کچھ جو حاصل کئے کہ جو کی قیمت کی برابر حضرت زہرا سلام الله علیہا اس کے لئے اون تیار کریں گی۔ 
جو کو پیس کر افطار کے لئے کچھ روٹیاں تیار کی گئیں۔ افطار کا وقت قریب آیا اور اب حضرت علی علیہ السلام کے مسجد سے گھر پلٹنے کا انتظار ہونے لگا ۔ جب حضرت علی علیہ السلام گھر تشریف لائے تو دسترخوان بچھایا گیا ، تمام اہل بیت اور فضہ دسترخوان پر آکر بیٹھ گئے، اس بابرکت دسترخوان پر فقط چار روٹیاں رکھی ہوئی تھیں ابھی کسی نے روٹی کی طرف ہاتھ بھی نہ بڑھایا تھا کہ کسی نے دروازہ پر آکر آواز دی اے اہل بیت نبوت آپ پر میرا سیلام ہو، میں ایک مسکین ہوں آپ جو کھا رہے ہیں اس میں سے مجھے بھی دیدیجئے خدا آپ کو جنت کے کھانوں سے سیر فرمائے۔ یہ سن کر دسترخوان پر رکھی ہوئی روٹیاں اٹھا کر سائل کے حوالہ کردی گئیں اور اہل بیت نے پانی سے افطار کیا۔ دوسرے اور تیسرے دن بھی حضرت زہرا سلام الله علیہا نے روٹیاں تیار کیں اور پہلے دن کی طرح ہی یتیم و اسیر کو دے کر پانی سے افطار کرکے بھوکے سو گئے۔اسی دوران جبرئیل امین اہل بیت کی شان میں سورہٴ دہر لے کر نازل ہوئے۔ جب تک قرآن باقی رہے گا اور اس کی تلاوت ہوتی رہے اور سورہٴ دہر کی آیتوں کو پڑھا جاتا رہے گا اہل بیت علیہم السلام کا یہ افتخار دنیا کے سامنے نمایاں ہوتا رہے گا۔ 
(۲) آیہٴ اجر رسالت: 
<قل لا اسئلکم علیہ اجراً الا المودة فی القربیٰ> یعنی اے پیغمبر! آپ ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ میں تم سے کوئی اجر رسالت نہیں مانگتا مگر یہ کہ میرے قرابیداروں سے محبت کی جائے۔ اس مقالہ میں اب تک جو بیان کیا گیا ہے اس سے صاف ظاہر ہوجاتا ہے کہ اہل بیت پیغمبر (قربیٰ) کو ن ہیں؟ حضرت زہرا سلام الله علیہا کی شہادت کے واقعہ سے یہ پتہ چلے گا کہ مسلمانوں نے پیغمبر اسلام کی وصیت اور اس آیت پر کس طرح عمل کیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پر گمراہ لوگوں کو نقصان ہوا اور انھوں نے اس راستہ کو طے کیا جس سے پیغمبر اسلام کو اذیت پہونچی۔ یہ آیت وہ شاہد اور حجت ہے جس کے ذریعہ حضرت زہراسلام الله علیہااس وقت احتجاج کریں گی جب ظالموں کو سزا اور مظلوموں کو ان کا حق دینے کے لئے خالق کائنات کی عدالت برپا ہوگی۔ وہاں پر ظالم اپنے اعمال کا نتیجہ بھگتیں گے۔
(0) آیہٴ مباہلہ: 
پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے الله کے پیغام کو پہونچایا اور انسانوں پر حجت کو تمام کیا۔ کچھ لوگوں نے اسے قبول نہیں کیا اور حق کی مخالفت کرنے لگے۔ الله نے پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا کہ ان لوگوں کے ساتھ مباہلہ کرو اور ان سے کہو کہ تم اپنے بیٹوں کو لاؤ ہم اپنے بیٹوں کو لائیں ، تم اپنی عورتوں کو لاؤ ہم اپنی عورتوں کو لائیں،تم اپنے نفسوں کو لاؤ ہم اپنے نفسوں کو لائیں اور مباہلہ کریں اور جھوٹوں پر الله کی لعنت قرار دیں۔ 
حق کو قبول نہ کرنے والوں میں سے ایک گروہ عیسائیوں کا بھی تھا۔ وہ مباہلہ کے لئے تیار ہوگئے اور اس کے لئے چوبیس ذی الحجہ کا دن معین ہوا ۔ جیسے جیسے مباہلہ کا وقت قریب آتا جا رہا تھا لوگوں کی بیچینیاں بڑھتی جارہی تھیں کہ دیکھیں اب پیغمبر اسلام کیا کریں گے؟ 
اچانک لوگوں نے دیکھا کہ پیغمبر اسلام اس شان سے اپنے گھر سے نکلے کہ امام حسین علیہ السلام کو گود میں لئے ہوئے تھے ،حضرت امام حسن علیہ السلام کا داہنا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے، حضرت زہرا سلام الله علیہا آپ کے پیچھے چل رہیں تھیں اور حضرت علی علیہ السلام ان کے پیچھے چل رہے تھے۔ آج پیغمبر اسلام کے لئے بیٹے حسنین علیہم السلام ،نفس علی، اور خاتون حضرت زہرا سلام الله علیہا تھیں۔ نصاریٰ نجران یہ سوچ رہے تھے کہ پیغمبر اسلام بادشاہوں کی طرح شان و شوکت اور بھیڑ بھاڑ کے ساتھ میدان میں آئیں گے لیکن جب انھوں نے پیغمبر اسلام کو اس شان سے آتے دیکھا تو دنگ رہ گئے اور آپ اور آپ کے اہل بیت اتنے متاثر ہوئے کہ اپنے سب سے بڑے عالم سے کہنے لگے اے ابوحارث! دیکھ رہے ہو؟ اس نے جواب دیا: مجھ سے پوچھتے ہو کہ کیا دیکھ رہا ہوں؟ میں ان انسانوں کو دیکھ رہا ہوں کہ اگر وہ الله کو قسم دے کر یہ کہیں کہ پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہٹا دیں تو وہ ایسا ہی کرے گا ۔ حضرت عیسیٰ کی قسم اگر محمد دعا کریں گے تو کوئی عیسائی زمین پر باقی نہیں رہے گا۔ ان سے مباہلہ نہ کرنا ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے۔ 
(0) آیہ تطہیر: انما یرید الله لیذہب عنکم الرجس اہل البیت ویطہرکم تطہیراً 
کیونکہ آیہٴ تطہیر کی تفصیل کے لئے بہت زیادہ وقت کی ضرورت ہے لہٰذا ہم یہاں پر اس کی طرف اشارہ کرکے ہی آگے بڑھ رہے ہیں۔ شیعہ وسنی علماء کا نظریہ یہ ہے کہ یہ آیت حضرت زہرا سلام الله علیہا آپ کے بابا ، ، آپ کے شوہر اور آپ کے بچوں کی شان میں نازل ہوئے۔ 
حدیث کساء سے ظاہر ہے کہ اس کی شان نزول کا محور بھی حضرت زہرا سلام الله علیہا کی ہی ذات ہے۔ الله نے یہ آیت آپ کی شان میں نازل کرکے فرمایا کہ اے اہل بیت بس الله کا ارادہ یہ ہے کہ آپ سے ہر رجس کو دور رکھے اور آپ کو اسی طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک رکھنے کا حق ہے۔ حضرت زہرا سلام الله علیہا کے فضائل بہت زیادہ ہیں ہم نے تو اس مقالہ میں آپ کے فقط چند فضائل کی طرف ہی مختصر سا اشارہ کیا ہے ۔ 
حضرت زہرا سلام الله علیہا پیغمبر اسلام کے سوگ میں : 
۱۱ ئھ ․ق ایک بہت بڑا حادثہ پیش آیا اور وہ یہ کہ اس سال پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے اس دنیا سے رحلت فرمائی ۔ یہ اتنا شدید صدمہ تھا کہ آپ کی وفات کے بعد حضرت علی علیہ السلام کی زبان پر آپ کے لئے یہ جملے جاری ہوئے : ”اے پیغمبر خدا! آپ کی رحلت سے وہ سلسلہ ختم ہوگیا جو کسی دوسرے کے مرنے سے ختم نہیں ہوتا۔ یعنی الله اور مخلوق کے درمیان کا رابطہ ختم ہوگیا سلسلہٴ وحی و نبوت بند ہوگیا۔ پیغمبر اسلام کی رحلت کے بعد امت مسلمہ میں جو ہوا اس سب کو لکھنے کے لئے تو ایک مفصل کتاب کی ضرورت ہے لہٰذا ہم یہاں پر مختصر طور پر بس یہ لکھ رہے ہیں کہ پیغمبر اسلام کی وصیت کو بھلا دیا گیا، باغ فدک غصب کرلیا گیا، امام کو خانہ نشینی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کیا گیا، جس گھر میں جبرئیل بھی بغیر اجازت کے قدم نہیں رکھتے تھے اس میں آگ لگائی گئ۔ حضرت زہرا سلام الله کی ذات جو کمالات و فضائل کا مرکز تھی اور جن کے بارے میں پیغمبر اسلام نے فرامت کو بہت سی وصیتیں بھی فرمائیں تھیں ان کو درو دیوار کے بیچ اس طرح پیسا گیا کہ آپ کا پہلو شکستہ ہوگیا اور آپ کے بیٹے محسن کی شہادت واقع ہوئی۔ جب مہاجر و انصار میں سے کسی نے آپ کی مدد نہ کی تو آپ سے مایوس ہوگئیں۔ 
آپ ہر روز قبر رسول پر جاتیں اور اتنا روتیں کہ بے ہوش ہوجاتیں جب ان کو گھر لے کر آتے تھے اور وہ ہوش میں آتی تھیں تو پھر رونا شروع کردیتی تھیں۔ ایک روز حضرت علی علیہ السلام نے آپ سے فرمایا: ”اے بنت رسول! مدینہ کے لوگ یہ کہتے ہیں کہ اے علی! آپ زہرا سے کہہ دیجئے کہ یادن میں رویا کریں یا رات میں۔ حضرت زہرا سلام الله علیہا نے جواب دیا اے ابوالحسن ! آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اب میں ان کے درمیان زیادہ دن زندہ نہیں رہوں گی میں جلدی ہی اپنے بابا کے پاس چلی جاؤں گی لیکن خدا کی قسم جب تک زندہ رہوں گی آرام سے نہ بیٹھوں گی۔ 
ہاں! آپ پیغمبر اسلام کے بعد اہل بیت پر اتنے ظلم ہوئے کہ پچھتر یا پچانوے دن تک حضرت زہرا سلام الله علیہا اتنا روئیں کہ آپ کا نام یاقوب جیسے رونے والوں کے ساتھ لیا جانے لگا۔ 
حضرت زہرا سلام اللهعلیہا بستر شہادت پر: 
بہر حال حضرت زہرا سلام علیہا کے غم و اندو کا زمانہ ختم ہوا ۔ ہر انسان کی طرح آپ نے بھی اپنی زندگی کے آخرت ایام میں حضرت علی علیہ السلام کو وصیت فرمائی۔ لیکن آپ کی وصیت عام لوگوں سے جدا تھی۔ آپ نے وصیت کی کہ اے علی! مجھے شب کی تاریکی میں چھپا کر دفن کرنا تاکہ ظالم میری نماز جنازہ اور دفن میں شریک نہ ہو سکیں۔
پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد کسی نے حضرت زہرا سلام الله علیہا کو کبھی ہنستے ہوئے نہیں دیکھا لیکن ایک دن جب آپ سے کہا گیا کہ آپ کا تابوت ایسا بنایا جائے گا جس میں بدن کا اندازہ نہ ہو سکے گا تو آپ بہت خوش ہوئیں اور آپ کے طاہر لبوں پر تبسم بکھر گیا۔ ہاں ! یہ وہ بی بی ہیں کہ جب ان سے پوچھا گیا کہ عورت کے لئے سب سے بہتر کیا چیز ہے ؟ تو آپ نے فرمایا: نہ کوئی غیر مرد اسے پہچانے اور نہ وہ کسی غیر مرد کو پہچانے۔ 
یہ جملہ حضرت زہرا سلام الله علیہا کو چاہنے والی لڑکیوں اور عورتوں کے لئے ایک درس ہے۔ ان کے برابر ہونا تو یقینا بہت مشکل کام ہے لیکن یہ ضرور سمجھ لینا چاہئے کہ سلام الله علیہا کی نظر میں سب سے اہم چیز عورت کی عفت و عصمت ہے۔ 
اسی دوران حضرت زہرا سلام الله علیہا نے اسماء بنت عمیس سے کہا کہ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے حنوط سے جو کافور بچ گیا تھا اسے لے کر آؤ۔ اس کے بعد آپ نے پانی طلب فرمایا اور غسل کیا اور ایک چادر اوڑھ کر لیٹ گئیں۔ اسماء سے کہا کہ تھوڑی دیر کے بعد مجھے آواز دینا اگر جواب نہ ملے تو سمجھنا کہ فاطمہ اپنے معبود کی بارگاہ میں پہونچ گئی ہے۔ 
جب اسماء نے تھوڑی دیر کے بعد آواز دی تو کوئی جواب نہ ملا اسماء نے دوبارہ آواز دی ۔ 
اے محمد مصطفےٰ کی بیٹی! 
اے اشرف مخلوق کی بیٹی! 
اے سب سے بہترین انسان کی بیٹی! 
اے الله سے سب سے زیادہ نزدیک انسان کی بیٹی! 
جب اسماء کی ان آوازوں پر بھی سکوت چھایا رہا اور حضرت زہرا کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا تو اسماء نے آگے بڑھ کر آپ کے چہرے سے کپڑا ہٹا دیا اور جو چہرے پر نظر پڑی تو اسماء سمجھ گئکہ رسول کی بیٹی اس دنیا سے رخصت ہو چکی ہے۔ 
حسنین علیہم السلام گھر میں داخل ہوئے اسماء سے سوال کیا کہ ہماری والدہٴ گرامی کہاں ہیں؟ اسماء خاموش رہی ۔ حسنین علیہم السلام ماں کے حجرے میں داخل ہوئے اب جو ماں کے جنازے پر نظر پڑی تو امام حسن نے امام حسین کو سینہ سے لگا کر ماں کا پرسہ دینا شروع کیا۔ حضرت علی علیہ السلام اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے جب حسنین علیہم السلام نے جاکر ان کو ماں کی شہادت کی خبر سنائی تو کسی بھی میدان میں نہ گھبرانے والے علی یہ خبر سن کر بے ہوش ہو گئے اور جب ہوش آیا تو فرمایا: ”اب میں اپنے غم کو کس کے سامنے بیان کروں؟ پیغمبر کے بعد آپ کے پاس سکون ملتا تھا اب کس کے پاس جاگر آرام حاصل کروں؟“ 
بنی ہاشم کی عورتیں جمع ہوئیںاورساکنان مدینہ جگر گوشہ رسول ، یادگار رسالت کے دنیا سے اٹھ جانے کے سبب چیخ مارتے ہوئے پیغمبر کے گھر میں جمع ہونے لگے ۔ یہ وہ فاطمہ زہرا سلام الله علیہا ہیں جن کے لئے پیغمبر اسلام نے امت کو بہت سی وصیتیں کی تھیں یہ بی بی دل میں غم و اندوہ کا توفان لئے اسلام و مسلمان کے مستقبل پر روتی ہوئی اس دنیا سے رخصت ہوگئ۔ 
رات میں دفن: 
حضرت زہرا سلام الله علیہا کی وصیت کے مطابق آپ کو رات کی تاریکی میں دفن کیا گیا ۔ حضرت زہرا سلام الله علیہا کی شہادت نے غم پیغمبر کو تازہ کردیا تھا ۔ مدینہ پر رات کا اندھیرا چھایا ہوا تھا ، عوام یہ افسوس کرتے کرتے سو گئے تھے کہ ہم نے پیغمبر کی وصیت پر عمل کیوں نہیں کیا! مہاجر و انصار اس لئے خاموش تھے کہ فاطمہ ہم سے مدد مانگتی رہیں مگر ہم مدد نہ کرسکے ۔ گویا مدینہ پر سنناٹا چھایا ہوا تھا۔ ۱۳/ جمادی الاول یا ۳/ جمادی الثانی تھی، رات کا وقت تھا، ایک چھوٹا سا قافلہ پیغمبر کی امانت یعنی حضرت زہرا سلام الله علیہا کے جنازہ کو آخری منزل کی طرف لے جا رہا تھا ۔ جنازہ میں شرکت کرنے والوں کی تعداد اتنی کم تھی کہ انھیں انگلیوں پر گنا جا سکتا تھا۔ جب کہ پیغمبر کی پیروی کا دعویٰ کرنے والوں سے مدینہ چھلک رہا تھا۔ 
اس طرح حضرت زہرا سلام الله علیہا کو دفن کیا گیا ۔ کچھ لوگوں نے رویات کی ہے کہ جب حضرت علی علیہ السلام نے حضرت زہرا سلام الله علیہا کو دفن کردیا تو پیغمبر اسلام سے خطاب کرتے ہوئے عرض کیا کہ اے پیغمبر خدا! آپ کے بعد امت نے کیاکیا اس کے بارے میں فاطمہ سے ہی معلوم کرلینا۔ 
اس وقت شدت غم سے مولا کا دل بھر گیا اور آپ نماز کے لئے کھڑے ہوگئے

قرارداد پاکستان، نظریہ پاکستان اور موجودہ پاکستان

قرارداد پاکستان، نظریہ پاکستان اور موجودہ پاکستان ....
ہر قوم ایک نظریے کی بنیاد پر وجود میں آتی ہے .قران مجید میں ایسی کہیں مثالیں موجود ہیں ،جیسے قوم لوط،قوم نوح ،قوم عاد ،قوم ثمود وغیرہ .ایسےہی مسلم امّہ ایک قوم ہے جو خاص اعتقادات اور نظریات کی حامل ہے .بر صغیر میں آبادی کے لحاظ سے مسلمان کم تھے یر سماجی نا انصافیوں کی وجہ سے پسماندہ بھی تھے .مسلمانوں کی زبوں حالی
اور کسمپرسی کو بھانپتے ہوے علامہ محمد اقبال نے ایک نظریۂ پیش کیا جسے دو قومی نظریۂ کہا جاتا ہے یہی نظریۂ ایک الگ مسلم ریاست کے قیام کا سبب بنا .علامہ محمد اقبال کا کہنا تھا کہ ہندو اور مسلم دو الگ قومیں ہیں جو الگ ثقافت اور جدا گانہ تشخص رکھتی ہیں .ان کی تہذیب و تمدن الگ ہیں ،ان دونوں کا رہن سہن اور بود و باش جدا ہے .اس بنیاد پر ان دونوں کا ایک ساتھ رہنا ممکن نہیں ہے .دو قومی نظریے کی بحث کو آگے بڑھانے سے پہلے ضروری ہے کہ کچھ اصطلا حات کی وضاحت کی جائے .
١.. ثقافت . 
عموما تو ثقافت کا مطلب رہن سہن ،خوراک و لباس ہی سمجھا جاتا ہے لیکن اس کے پیچھے ہمیشہ ایک نظریۂ اور عقیدہ موجود ہوتا ہے .اسلام نے انسانی فطرت کے پیش نظر لباس و خوراک کے ضروری اور جامع احکامات جاری کر رکھے ہیں .حلال و حرام کا ایک مکمل ضابطہ موجود ہے .اس لیے ایک مسلمان نہ تو ہر خوراک کھا سکتا ہے اور نہ ہی ہر لباس پہن سکتا ہے .نیز اسلام باہمی میل جول اور تعلقات کی حدود بھی معین کرتا ہے .مرد و زن کے درمیان ایک حد فاصل کو قائم رکھنے کا حکم دیتا ہے اور رشتوں کی پا کیزگی اور تقدس بھی مد نظر رکھتا ہے .اس بنیاد پر اسلامی ثقافت ہر دوسری ثقافت سے جدا اور ممتاز ہے .
٢ کلچر ....
کلچر انگریزی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی بونے کے ہیں جیسا کہ agriculture کے معنی کھیت میں بیج بونے اور کاشت کرنے کے ہیں .اسلامی معاشرے میں کلچر کے معنی یہ ہوں گے ایمان کا بیج دل میں بویا جائے اور عمل کے پانی سے آبیاری کی جائے جس کے نتیجے میں ایک پاکیزہ معاشرہ وجود میں آیے .
٣.تمدن ...
تمدن کا لفظ مدن سے ہے جس کا مطلب شہری آبادی ہے .انسان کا سماجی مخلوق ہونا فطری بات ہے .اور جہاں سماج کی اور بہت سی ضروریات ہیں وہاں گھر اور شہر بھی ایک اہم سماجی ضرورت ہے .اور اسلام نے اس بارے میں بھی جامع احکامات جاری کیے ہیں .علامہ محمد اقبال جب معروف جرمن اسکالر مسولینی سے ملے تو اس نے پوچھا کہ اسلام شہروں کی آباد کاری کے متعلق کیا کہتا ہے /؟اس پر علامہ نے فرمایا اسلام نے حکم دیا ہے کہ شہری آبادی کو ایک حد سے زیادہ نہ بڑھنے دیا جائے . تا کہ انتظامات آسان ہوں اور جرائم کی روک تھام بھی آسانی کے ساتھ ہو سکے ..اس پر مسولینی اسلام کو سراہے بغیر نہ رہ سکا .جہاں گھر بنتے اور بستے ہیں وہاں عبادت گاہیں بھی بنتی ہیں .اسلام میں مساجد کو خاص اہمیت حاصل ہے .اس کے ساتھ ساتھ اسلام نے غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کے احترام کا حکم بھی دیا ہے ..
مسلم معاشرے کو مخصوص ثقافت اور تہذیب و تمدن کو مد نظر رکھتے ہویے ہی علامہ محمد اقبال نے ایک الگ اسلامی ریاست کا تصور پیش کیا .بر صغیر کے اکابرین نے بعد میں الگ ریاست کے قیام کے لیے تحریک چلائی تو چوہدری رحمت علی نے اس مجوزہ ریاست کا نام پاکستان تجویز کیا.
٢٢ مارچ ١٩٤٠ کو مسلم لیگ کے اجلاس میں ایک قرارداد پیش کی گئی جسے ہندو اخبارات نے قرارداد پاکستان کا نام دیا .یہ قرارداد اے کے فضل الحق نے پیش کی .اس قرارداد میں کہا گیا 
( قرار پایا ہے کہ غور و خوض کے بعد آل انڈیا مسلم لیگ کے اس اجلاس کی رائے یہ ہے کہ کوئی آئینی 
منصوبہ بغیر اس کے کہ ملک میں قابل عمل اور مسلمانوں کے قابل عمل اور مسلمانوں کے قابل قبول نہیں ہو گا کہ وہ مندرجہ ذیل اصولوں پر مبنی ہو ،یعنی یہ کہ حد بندی کر کے اور ملکی تقسیم کے اعتبار سے رد و بدل کر متصل واحدوں کو ایسے منطقے بنایا جائے کہ وہ علاقے جن میں مسلمانوں کی اکثریت ہے .جیسے کہ ہندوؤں کے شمالی ،مغربی اور مشرقی منطقوں میں اس طرح یک جا ہو جایئں کہ وہ ایسی خود مختار ریاستیں بنیں جن کے واحد ے اندرونی طورپر با اختیار ہوں کہ ان واحدوں میں اور ان علاقوں میں اقلیتوں کے لیے ان کے مذہبی ثقافتی ،اقتصادی .سیاسی ،انتظامی اور دوسرے حقوق و مفاد کے تحفظ کے لیے ان کے مشورے سے بقدر ضرورت موثر اور واجب التحصیل تحفظات معین طورپر دستور کے اندر مہیا کیے جایئں اور ہندوستان مسلمان اقلیت میں ہوں حسب ضرورت موثر اور واجب التحصیل تحفظات ان کے اور دوسری اقلیتوں کے مذہبی ،ثقافتی ،سیاسی انتظامی اور دوسرے حقوق و مفاد کی حفاظت کے لیے ان کے مشورے سے معین طورپر دستور میں رکھے جایئں .....
یہ اجلاس ورکنگ کمیٹی کو یہ مزید اختیار دیتا ہے کہ ان بنیادی اصولوں کے مطابق دستور کی ایک ایسی سکیم مرتب کرے جس میں اس کا انتظام ہو کہ بالاخر کہ یہ جداگانہ علاقے ایسے تمام اختیارات لے سکیں جیسے دفاع ،امور خارجہ رسل و رسائل ،کسٹم اور دوسرے امور جو ضروری ہیں .. اس قرارداد میں جہاں مسلمانوں کو اینی تحفظ مہیا کیا گیا ہے وہیں پر اقلیتوں کو بھی تحفظ فراہم کیا گیا ہے .اس قرار داد کی روشنی میں نظریۂ پاکستان کی مزید وضاحت ہوتی ہے اور یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اکابرین کی نظر میں ایک اسلامی ریاست کا قیام تھا . تقسیم ہند کے بعد جو ریاست پاکستان کے نام سے وجود میں آئی وہ بہت سے مسائل کا شکار تھی .بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے بارہا ارشاد فرمایا کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے .اسی وجہ سے تمام استعماری اور سامراجی طاقتوں نے پاکستان کے خلاف ابتدا ہی سے سازشوں کا آغاز کر دیا . بانی پاکستان اور اول وزیراعظم لیاقت علی خان کا قتل اسی سلسلے کی کڑیاں تھیں .یہ سلسلہ تخریب جاری رہا اور سامراج اقتدار کے ایوانوں میں اپنے پٹھوں داخل کرنے میں کامیاب ہو گیا .اس کے باوجود پاکستانی قوم کو ١٩٧١ کا متفقہ آئین مل گیا جو کہ اسلامی تعلیمات کے قریب ترین ہے .. اسلام اور پاکستان کے مشترکہ دشمنوں نے پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں پر حملے جاری رکھے عسکری جارحیت سے زیادہ نظریاتی حملے خطر ناک ثابت ہوے .ذر خرید نام نہاد دانشوروں کے ذریعے قوم کو شکوک و شبہات میں مبتلا کر کے نظریۂ پاکستان سے بد ظن کیا گیا .قائداعظم رحمتہ الله علیہ کی شخصیت کو متنازعہ بنایا گیا . جہاں استعمار کے ذر خرید غلام پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی تخریب میں مشغول ہیں وہیں دوسری طرف چند بے ایمان منافق اور بد دیانت اقتدار پر قبضہ جماہے بیٹھے ہیں .
ہوس و حرص کے غلاموں نے اہم ملکی معاملات سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں اور اپنی ہوس کی تکمیل اور ذاتی مفادات کے حصول کے لیے ملک دشمن عناصر کو کھل کھیلنے کا موقع فراہم کر رکھا ہے ..
تعصبات کے فروغ کے ذریعے قوم کو افراد کے ہجوم میں تبدیل کر دیا گیا ہے . مسلکی ،لسانی .علاقائی اور دیگر تعصبات نے قوم کو منتشر کر دیا . تعلیم و تربیت کا فقدان اس بات کا باعث بنا کہ مفاد پرست رہنماؤں نے عوام کو ہمیشہ اپنے مفادات کے لیے اسعتمال کیا .
ہر سال یوم پاکستان کی رسم ادا کرنا فوجی پریڈ اور قومی نغمات سے لوگوں کو محظوظ کرنا کافی نہیں ہے .بلکہ اس دن کو اس کے اصل مقصد کی تکمیل کا دن قرار دے کر عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ..٢٣ مارچ تجدید عہد کا دن نہیں بلکہ آیفاہے عہد کا دن ہے .اس دن جائزہ لینا چاہے کہ ہم مقصد قیام پاکستان کے حصول میں کس حد تک کامیاب ہوے ہیں .اور اس مقصد کے خلاف نبردآزما طاقتوں سے کس طرح مقابلہ کیا جائے . 
یقینا ہم نہ صرف اپنے مقصد کے حصول میں ناکام رہے ہیں بلکہ ہم اس بات کا احساس بھی کھو چکے ہیں کہ ہمارا کوئی مقصد بھی تھا . اب بھی وقت ہے کہ احساس ذمہ داری سے کام لیں اور قوم سازی پر توجہ دیں .گھر ،سکول ،کالج ،جامعہ سے لے کر ایوانوں تک ہر فرد اور ادارہ اس بات کا ذمہ دار ہے کہ قومی سیرت کی تعمیر میں حصہ لے .ذرائع ابلاغ اور تعلیمی ادارے اس فرض کو بخوبی نبھا سکتے ہیں . 
آئیے اس بار وفایے عہد کے عملی اقدامات کریں .رسمی بیانات اور تقریبات سے آگے بڑھیں 

Sunday, March 15, 2015

کیا معصومین {ع} ترک اولی کرتے تھے؟

جمالی جواب


معصومین {ع} کی دعائیں اور طلب مغفرت، گناھوں کی وجہ سے نہیں ھوتی ہیں، کیونکہ شیعوں کے اعتقاد کے مطابق وہ گناھوں سے پاک و معصوم ہیں- یہ دعائیں بہت سے مواقع پر صرف تربیتی اور دکھاوے کا پہلو نہیں رکھتی ہیں، بلکہ ان کا حقیقی پہلو برتر ھوتا ہے-

مذکورہ دو مطالب کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کا استغفار ان موارد کے بارے میں تھا، جو ہمارے لئے گناہ نہیں ہے- لیکن ان کے لئے گناہ شمار ھوتے تھے-

اگر چہ، اس استدلال کے پیش نظر ہم معتقد ھو جائیں کہ اس قسم کے گناہ، جنھیں " ترک اولی" کہا جاتا ہے، معصومین کے لئے ممکن ہے، تو آپ کے سوال کا جواب مثبت ھوگا، لیکن معصومین {ع} کی طرف سے بعض اعمال کو بجا لانے کے تمام دلائل سے آگاہی نہ رکھنے کی وجہ سے، ہم ان کے دقیق مصادیق بیان کرنے کی طاقت نہیں رکھتےہیں-
تفصیلی جواب


جو چیز اکثر شیعوں کے اعتقاد کے مطابق ایک مسلم اور قطعی امر ہے، وہ انبیاء {ع} اور ائمہ اطہار {ع} کی عصمت کا موضوع ہے کہ اس کی بنا پر، یہ بزرگوار ہر گز ایسا کوئی کام انجام نہیں دیتے ہیں، جو قرآن مجید اور قطعی سنت کے مطابق گناہ کا عنوان رکھتے ہیں-

اس کے مقابلے میں قرآن مجید کی بعض آیات سے معلوم ھوتا ہے کہ پیغمبروں سے بھی بعض گناہ سرزد ھوئے ہیں، کہ اس پر اپنی جگہ پر بحث کی گئی ہے-[1]

لیکن معصوم اماموں {ع} کے بارے میں بھی ایسی بے شمار روایتیں پائی جاتی ہیں، جن سے معلوم ھوتا ہے کہ انھوں نے استغفار کرکے خداوند متعال سے اپنے گناھوں کی بخشش کی درخواست کی ہے-

دعائے کمیل ایک ایسی دعا ہے کہ جس کا آغاز" اللھم اغفرلی الذنوب التی- - - " کی عبارت سے ھوتا ہے- یہ دعا ایسی روایتوں کی ایک مثال ہے-

امیرالمومنین {ع} کا ایک صحابی معاویہ کے پاس جاکر، امیرالمومنین[ع] کی ستائش میں یوں بیان کرتا ہے:

" میں نے انھیں { امیرامومنین کو} ایک تاریک رات میں دیکھا کہ محراب میں کھڑے ہیں، اپنی داڑھی کو اپنے ہاتھوں سے پکڑے ھوئے ہیں اور سانپ کے ڈسے ھوئے انسان کے مانند تڑپ رہے ہیں اور زار زار روتے ھوئے کہتے تھے:" اے دنیا؛ اے دنیا؛ مجھ سے دور ھوجا میرے پیچھے کیوں پڑی ہے؟ اور کیوں مجھے گمراہ کرنے کی تمنا رکھتی ہے؟؛ وہ دن کبھی نہ آئے- - - میرے علاوہ کسی اور شخص کے پیچھے جانا- - - مجھے زاد راہ کی کمی ، طولانی راہ، دراز سفر اور پریشان کن مقصد کے بارے میں افسوس ہے-"؛[2]

مذکورہ مطالب پر غور کرنے سے بظاہر اصل عصمت اور اشارہ شدہ روایتوں کے درمیان ایک قسم کا تعارض معلوم ھوتا ہے- دینی علماء نے اس تعارض کو دور کرنے کے لئے کچھ نظریات پیش کئے ہیں ہم ذیل میں ان میں سے دو نظریوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

۱- معصومین {ع} کی دعائیں ار استغفار، ان کے اپنے بارے میں نہیں تھے، کیونکہ وہ حقیقت میں کسی گناہ کے مرتکب نہیں ھوئے تھے، کہ اس کے بارے میں استغفار کرتے، بلکہ بیان کئے گئے مطالب تربیتی پہلو رکھتے ہیں اور ان کی یہ دعائیں اور استغفار ان کے پیرووں کے استفادہ کے لئے تھے-

اس سلسلہ میں قابل بیان ہے کہ: ان دعاوں میں سے بعض کے تربیتی ھونے سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ نیمہ رجب کی "دعائے ام داود" اس کی مثال ہے-[3] لیکن ان کی بہت سی دعائیں تضرع و زاری اور رات کی تاریکی اور خلوت میں انجام پاتی تھیں کیا یہ گریہ اور نالہ وزاری{ نعوذ باللہ} دکھاوے کی تھی اور ائمہ معصومین{ع} ایک ادا کار کا رول ادا کرتے تھے؟ یا یہ کہ حقیقت میں دل سے گریہ اور راز و نیاز اور استغفار کرتے تھے-

اگر دوسری صورت صحیح ھو تو یہ سوال پیدا ھوتا ہے کہ وہ کس گناہ کے بارے میں استغفار کرتے تھے اور کس چیز کے لئے فکر مند تھے؟

۲- دوسرا نظریہ، یہ ہے کہ معصومیں کا استغفار اور دعائیں، حقیقی تھیں، اگر چہ وہ ان گناھوں سے معصوم تھے جو ہمارے لئے معصیت ہیں، لیکن ایسے امور بھی ہیں، جو ہمارے لئے گناہ نہیں ہیں، لیکن ان کے لئے گناہ شمار ھوتے ہیں اور ان کا استغفار اسی قسم کے گناھوں کے لئے تھا-

اس سلسلہ میں جاننا چاہئے کہ لفظ " ترک اولی" اسلام کے ابتدائی منابع میں نہیں تھا اور علمائے اسلام نے، انبیاء {ع} اور ائمہ سے منسوب گناھوں کے لئے اس عبارت کو منتخب کیا ہے-

" ترک اولی" کا مصداق یہ ہےکہ ہم خوب اور خوب تر سے خوب کا انتخاب کریں، اس صورت میں اگر چہ ہم کسی گناہ کے مرتکب نہیں ھوئے ہیں اور انجام شدہ کام بھی مناسب اور بجا تھا، لیکن ہم خوب ترکا انتخاب کرکے بہتر کام انجام دے سکتے تھے جس سے ہم نے غفلت کی ہے-

سب سے اہم دلیل، جس سے استفادہ کیا جاسکتا ہے، وہ یہ ہے کہ آپ کے سوال کا جواب مثبت ہے اور ممکن ہے معصومین {ع} ترک اولی کریں، یہی دعائیں ہیں جن میں خداوند متعال سے مغفرت کی درخواست کی جاتی ہے، اور جگہ جگہ پر یہ دعائیں قابل مشاہدہ ہیں، کیونکہ اگر یہ گناھوں کے بارے میں طلب مغفرت نہ ھو تو قدرتی طور پر ترک اولی کے لئے ہے کہ جو ان کے بلند مقام کے پیش نظر قابل استغفار ہے- اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ :" حسنات الابرار سئیات المقربین"[4]

اس کے مشابہ مسئلہ میں ایک نوجوان، اپنی عمر کے ہفتوں اور مہینوں کو ضائع کرکے اس قدر افسوس نہیں کرتا ہے کہ ایک دانشور اپنے ایک گھنٹہ کو ضائع ھونے میں افسوس کرتا ہے اور پشیمان ھوتا ہے، اور ہم جانتے ہیں کہ اس دانشور کی حسرت دکھاوے کی اور تربیتی نہیں ہے، بلکہ وہ حقیقت میں حسرت ہے-

امام خمینی {رح} اس نظریہ کو یوں بیان فرماتے ہیں:" انسان جب ائمہ اطہار {ع} کی دعاوں کو دیکھتا ہے، خواہ وہ رمضان المبارک کی دعائیں ھوں یا دوسری دعائیں- - - ہمیں رحمت خدا سے مایوس ھونے کی ممانعت کی گئی ہے، ہمیں اس وقت دعاوں کو دیکھنا چاہئے جب مکمل طور پر مایوس ھو جائیں- یہ امام سجاد {ع} ہیں، جب ہم ان کی مناجات کو دیکھتے ہیں، تو مشاہدہ کرتے ہیں کہ وہ کس طرح گناہ سے ڈرتے ہیں- مسئلہ ان مسائل سے بڑا ہے کہ ہم سوچتے ہیں یہ مسئلہ ان مسائل کے علاوہ ہے جو ہماری سوچ میں یا عقلا کی عقل یا عرفا کے عرفان میں آتے ہیں- یہ ایک ایسا مسئلہ ہے، جسے اولیائے الہی جانتے ہیں کہ قضیہ کیا ہے – یہ ہمیں سکھاتے ہیں ، اس طرح نہیں ہے کہ دعائیں ہمارے سکھانے کے لئے ھوں، دعا، خود ان کے لئے تھی، وہ خود ڈرتے تھے اور اپنے گناھوں کے بارے میں پوری رات صبح تک روتے تھے- - -

پیغمبر اکرم {ص} سے لے کر امام عصر {عج} تک سب گناہ سے ڈرتے تھے ان کا گناہ ہمارے گناہ کے علاوہ ہے وہ ایک عظمت کا ادراک کرتے تھے، جو کثرت کی طرف توجہ، ان کے ہاں گناہان کبیرہ کے بارے میں ہے حضرت سجاد {ع} سے نقل کی گئی ایک روایت کے مطابق آپ {ع} ایک رات صبح تک یہ کہتے رہے کہ : اللّهُمَّ ارْزُقْنى التَّجافِىَ عَنْ دارِ الغُرُورِ وَ الْانابَةَ الى‏ دارِ السُّرُورِ و الْاسْتِعدادَ لِلْمَوتِ قَبْلَ حُلُولِ الْفَوْت.[5] یہ ایک بڑا مسئلہ ہے- وہ جب خدا کی عظمت کے سامنے اپنے آپ کو قرار دیتے ہیں، تو دیکھتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں ہیں اور ان کے پاس کچھ نہیں ہے- حقیقت یہی ہے کہ: اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور کوئی چیز نہیں ہے ، جب کہ عالم کثرت پر توجہ کرتے ہیں، اگر چہ خدا کے ہی حکم سے-

یہی وجہ ہےکہ رسول خدا {ص} سے منسوب ہے کہ آپ {ص} نے فرمایا ہے: لَيُغانُ عَلى‏ قَلْبى‏ فَإنّى‏ لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فى‏ كُلِّ يومٍ سَبْعيِنَ مَرَّة.[6]

وہ ان مسائل کے علاوہ تھا ، جو ہمارے پاس ہے – وہ ضیافت میں تھے، ماورائے ضیافت میں بھی تھے- ضیافت میں تھے اور خدا کے حضور میں تھے، اس کے باوجود لوگوں کو دعوت کرتے تھے – اس سے ناراضگی حاصل ھوتی ہے- مظاہر الہی کی طرف توجہ کرنا، غیب کے بارے میں متوجہ ھونا، مظاہر الہی کی شہادت دینا، اگر چہ سب کچھ الہی ہے، ان کے لئے سب کچھ الہی ہے، لیکن اس کے باوجود ، وہ " کمال انقطاع الیک" کے غیب کو چاہتے ہیں، جب وہ مظاہر الہی پر توجہ کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ گناہ کبیرہ اور نا قابل بخشش ہے، امام سجاد {ع} کی نظر میں یہ دار الغرور ہے- ملکوت پر توجہ کرنا دار الغرور ہے- ماورائے فوق کی طرف توجہ کرنا بھی دار الغرور ہے- ضیافت کی عدم موجودگی بھی حق تعالی کی طرف توجہ کرنا اولیائے الہی کی خصوصیت ہے، وہاں پر ضیافت اللہ کا وجود نہیں ہے-"[7]

اس کے باوجود کہ ایک اجمالی نظر میں معصومین {ع} کی دعاوں اور استغفار کو حقیقی اور ناراضگیوں اور ترک اولی کی وجہ سے جانا جاسکتا ہے، جنھوں نے انھیں کچھ لمحات کے لئے عبادت کے بلند درجات سے دور رکھ کر نچلے درجات میں قرار دیاہے، لیکن اس کے پیش نظر کہ خود وہ معصومین { ع} یقینا ہم سے بہتر مصلحتوں سے آگاہ تھے، ہم ان کے بعض کاموں کے بارے میں فیصلہ نہیں کرسکتے ہیں جو بظاہر " ترک اولی" شمار ھوتے تھے، کیونکہ ائمہ اطہار {ع} بعض اوقات افراط و تفریط کو روکنے کے لئے اپنے پیرووں کے درمیان ایسے کام انجام دیتے تھے ، جو بظاہر " ترک اولی" لگتے تھے، لیکن ان پر غور کرنے کے بعد برعکس معلوم ھوتا تھا-

مثال کے طور پر، اس میں کوئی شک و شبہہ نہیں ہے کہ روزہ داری اور شب بیداری، معنوی درجات تک پہنچنے کے طریقے ہیں، لیکن پیغمبر اسلام {ص} عباد ت میں افراط کی مذمت کرنے کے بعد اور یہ فرمانے کے بعد کہ عبادت میں افراط، ممکن ہے ایک مد ت کے بعد اسے ترک کرنے کا سبب بنے، فرماتے ہیں:" میں بھی نماز کے لئے اٹھتا ھوں، اور سوتا بھی ھوں- روزہ بھی رکھتا ھوں اور کبھی افطار بھی کرتا ھوں – باوجودیکہ روتا ھوں ، لیکن مسکراہٹ کو فراموش نہیں کرتا ھوں-"[8]

ایک اور زاویہ سے، ہم بخوبی جانتے ہیں، کہ دنیوی مظاہر جیسے پوشاک اور خوراک کی طرف توجہ نہ کرنا، خاص کر ائمہ اطہار{ع} اور زمامداروں کے لئے پسندیدہ کام ہے، [9] لیکن اس کے باوجود ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ امام صادق {ع زاہد نما افراد کے سامنے بہترین لباس زیب تن فرماتے تھے اور قرآن مجید سے استناد کرکے، ان کے اعتراضات کا جواب دیتے تھے-[10]

شاید پہلی نظر میں یہ کام " ترک اولی" نہ لگے، لیکن اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کے بعد کہنا چاہیئے کہ : اس زمان و مکان اور حالات میں اگر معصومین {ع} کوئی اور عمل انجام دیتے اور مثال کے طور پر اونی کپڑا زیب تن کرکے خواب و خوراک سے اجتناب کرتے اور گمراہ کن اور افراطی تفکرات کی روک تھام کرتے، اگر چہ ان کا یہ کام بظاہر مناسب بھی لگتا، لیکن حقیقت میں یہ " ترک اولی" شمار ھوتا ہے-





[1] اس سلسلہ میں آپ اس سائٹ کے سوال : 7209 کا مطالعہ کرسکتے ہیں-


[2] نهج البلاغة، ص 480، حکمت 77، انتشارات دار الهجرة، قم،


[3] مجلسي، محمد باقر، بحار الانوار، ج 47، ص 307، مؤسسة الوفاء، بیروت، 1404 هـ .


[4] ایضا، ج 70، ص 317،


[5] ملاحظہ ھو: ایضا، ج 95، ص 63. اشارہ کی گئی دعا کے معنی یہ ہیں کہ : خداوندا؛ غرور کے گھر {دنیا} سے جدا کرکے ابدی گھر {آخرت} کی طرف ہماری راہنمائی فرما اور مجھے فرصت کو کھو دینے سے پہلے موت کے لئے تیار کرنا- البتہ بحار الانوار کی روایت کے مطابق " دار السرور" کی جگہ پر " دار الخلود" آیا ہے-


[6] ملاحظہ ھو: ایضا، ج 25، ص 204. اس روایت کے معنی یہ ہیں کہ : کبھی کبھی میرا دل مضطرب و ناراض ھوتا اور اسی وجہ سے روزانہ ستر بار استغفار کرتا ھوں-


[7] صحیفه امام، ج 269-268، مؤسسه تنظیم و نشر آثار امام خمینی، تهران، 1386، طبع چهارم.


[8] کلینی، محمد بن یعقوب، کافی، ج 2، ص 85، دار الكتب الاسلامیة، تهران، 1365 هـ ش.


[9] ایضا، ج 1، ص 410، ح 3 و کشف الغمة ، ج 1، ص 163.


[10] کلینی، محمد بن یعقوب، کافی، ج 5، ص 65، ح 1.

امام علی علیه السلام کی امامت اور خلافت کو کیسے ثابت کیا جاسکتا هے؟

بیشک دین اسلام کی بقا اور اس کی حیات کو جاری رکھنے کے لئے محافظ هادی اور مسلسل ایسے شائسته افراد کی ضرورت هے جو دین کے معارف اور دستور کو لوگوں تک پهنچائیں،اور دین کے صحیح قواعد و ضوابط کو اسلامی معاشره میں نافذ کریں- چونکه تخلیق کا ایک مقصد ، لوگوں کی براه راست هدایت کر نا هے ، اس لئے خداوند متعال کی حکمت کا تقاضا هے که پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم کی رحلت کے بعد ، دین کی حفاظت اور لوگوں کی هدایت کے لئے کسی قائد و پیشوا کو مقرر ومعین فر مائے اور لوگوں کو ان کی محدود عقل کے رحم و کرم پر نه چھوڑ دے ، جو اکثر نفسانی خواهشات کی شکار هوجاتی هے-

  1. حضرت علی علیه السلام کی امامت کا ثبوت ، امامت کے خاص مباحث میں سے هے، اس کو ثابت کر نے کے لئے صرف براه راست عقلی دلیل سے استفاده نهیں کیا جاسکتا هے ، بلکه آیات و روایات اور تاریخی واقعات سے استناد کر کے پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم کی خلافت و امامت کے عهده کو ثابت کیا جاسکتا هے:


الف: قرآنی دلیل:

قرآن مجید میں بهت سی آیات پائی جاتی هیں جن کی شان نزول کے بارے میں بیان کی گئی پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم کی احادیث سے استفاده کر کے حضرت علی علیه السلام کی امامت کو ثابت کیا جاسکتا هے- اس سلسله میں جن آیات کو دلیل کے طور پر پیش کیا جاسکتا هے وه حسب ذیل هیں: آیه تبلیغ ، آیه ولایت ، آیه اولی الامر اور آیه صادقین – تفصیلی جواب میں ان کی تشریح کی جائے گی-

ب :حدیثی دلیل:

شیعه اور اهل سنت کی کتابوں میں پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم سے بهت سی ایسی روایتیں نقل کی گئی هیں، جن میں آنحضرت صلی الله علیه وآله وسلم نے فر مایا هے که : "میرے بعد میرے وصی اور جانشین علی(ع) بن ابیطالب هیں، ان کے بعد ان کےدو بیٹے حسن و حسین (علیهما السلام) اور ان کے بعد امام حسین (ع) کی نسل سے یکے بعد دیگرے نو امام هیں-" لیکن یه روایت ان روایتوں کے علاوه هے جو حدیث منزلت، حدیث غدیر خم اور مشهور حدیث ثقلین کے نام سے بیان هوئی هیں ، یاوه احادیث جن میں آنحضرت صلی الله علیه وآله وسلم نے فر مایا هے که : " میرے بعد باره خلیفه هوں گے جن کے ذریعه دین عزیز هوگا-"

تفصیلی جواب 
اس میں کوئی شک وشبهه نهیں هے که دین اسلام کی بقاء اور اس کی حیات کو جاری رکھنے کے لئے محافظ، هادی اور مسلسل ایسے شائسته اور کامل و معصوم انسانوں کی ضرورت هے جو دین کے معارف اور احکام کو لوگوں تک پهنچائیں اور دین کے صحیح قواعد وضوابط کو اسلامی معاشره میں نافذ کریں – چونکه تخلیق کے مقاصد میں سے ایک مقصد لوگوں کی بلاواسطه هدایت کر نا هے ، اس لئے خدائے مهربان کی حکمت کا تقاضا هے که پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم کی رحلت کے بعد دین کی حفاظت اور لوگوں کی هدایت کے لئے کسی قائد وپیشوا کو مقرر و معین فر مائے اور لوگوں کو ان کی محدود عقل کے رحم وکرم پر نه چھوڑ دے،جو اکثر نفسانی خواهشات کی شکار هوجاتی هے – لهذا پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم کی رحلت کے بعد تمام زمانوں کے لئے ، اور لوگوں کی هدایت ، دین کی حفاظت اور اس کے احکام کے نفاذ کے لئے معصوم اور علم لدنی کے مالک اماموں کی ضرورت عقلی دلیل سے ثابت اور واضح هے-

امام علی علیه السلام کی امامت کا ثبوت، امامت کے خاص مباحث میں سے هے- اس کو ثابت کر نے کے لئے براه راست صرف عقلی دلیل سے استفاده نهیں کیا جاسکتا هے ، بلکه امامت اور هر زمانه میں[1]امام کی ضرورت کے سلسله میں عقلی دلیل سے کام لے کر ،  اور آیات اور روایات ور تاریخی واقعات سے استناد کر کے، پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم کے بعد حضرت علی علیه السلام کی خلافت و امامت کو ثابت کیا جاسکتا هے اور اس طریقه سے مقصد تک پهنچا جاسکتا هے-

ذیل میں هم گنجائش کے مطابق اس سلسله میں قرآن مجید اور احادیث میں موجود دلائل کے ذریعه حضرت علی علیه السلام کی امامت و خلافت کو ثابت کریں گے:

الف: قرآنی دلیل:

قرآن مجید میں بهت سی ایسی آیات پائی جاتی هیں جو امام علی(ع)اور دوسرے ائمه اطهار علیهم السلام کی امامت پر دلالت کرتی هیں- البته ان آیات کی دلالت [2]ان بے شمار(متواتر) احادیث کے پیش نظر هے که جو رسول اکرم صلی الله علیه وآله وسلم کی طرف سے ان آیات کی شان نزول کے بارے میں بیان هوئی هیں- هم یهاں پر چند ایسی آیات کی طرف اشاره کریں گے جن کی شان نزول کے بارے میں نقل کی گئی احادیث کو شیعه اور اهل سنت دونوں قبول کرتے هیں:[3]

١- آیه تبلیغ: "اے پیغمبر! آپ اس حکم کو (لوگوں تک) پهنچادیں جو آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا هے- اور اگر آپ نے یه نه کیا تو گویا اس کے پیغام کو نهیں پهنچایا خداوند متعال آپ کو لوگوں کے (ممکنه) شر سے محفوظ رکھے گا که الله کا فروں کی هدایت نهیں کر تا هے-"[4]

مذکوره آیه شریفه میں خدا وند متعال نے اپنے پیغمبر (ص) کو پوری شدت کے ساتھـ حکم دیا هے که اپنی رساالت کو پهنچادیں اور روایات کے مطابق ،اس آیه شریفه کے نازل هو نے کے بعد غدیر خم نام کے مقام پر حضرت علی(ع) کے بارے میں فر مایا : " جس کا میں مولاهوں اس کے علی(ع) بھی مولا هیں-" اور اس طرح انھیں اپنا جانشین معین فر مایا-[5]

٢- آیه ولایت: "ایمان والو! بس تمهارا ولی الله هے اور اس کا رسول اور وه صاحبان ایمان جو نماز قائم کرتے هیں اور حالت رکوع میں زکواه دیتے هیں-" [6]

مفسرین اور محد ثین کی ایک بڑی تعداد نے کها هے که یه آیت حضرت علی علیه السلام کی شان میں نازل هوئی هے-[7]

اهل سنت کے مشهور دانشور،" سیوطی" اپنی تفسیر" الدر المنثور" میں اس آیت کے ذیل میں " ابن عباس" سے نقل کر تے هوئے کهتے هیں: : " علی(ع) نماز میں رکوع کی حالت میں تھے که ایک سائل نے مدد کی درخواست کی اور حضرت(ع) نے اپنی انگوٹھی صدقه کے طور پر اُسےدیدی، پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم نے سائل سے پوچھا : یه انگوٹھی ، کس نے تمھیں صدقه کے طور پر دیدی؟ سائل نے حضرت علی(ع) کی طرف اشاره کر کے بتایا: " اس شخص نے جو رکوع کی حالت میں هے" اس وقت یه آیه نازل هوئی-"[8]

اس کے علاوه اهل سنت کے دانشوروں میں سے " واحدی" [9]اور" زمخشری" [10]نے بھی اس روایت کو نقل کیا هے اور واضح طور پر کها هے که آیه" انما ولیکم الله---" حضرت علی (ع) کے بارے میں نازل هوئی هے-

فخر رازی ، اپنی تفسیر میں عبدالله بن سلام سے نقل کر تے هیں که،جب یه آیه شریفه نازل هوئی ، میں نے رسول خدا صلی الله علیه وآله وسلم سے عرض کی که میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا که علی(ع) نے رکوع کی حالت میں ایک حاجتمند کو صدقه دیدیا، اسی وجه سے هم ان کی ولایت کو قبول کر تے هیں ! اس کے علاوه اس آیه شریفه کی شان نزول کے بارے میں اسی کے مشابه ایک اور روایت ابوذر سے نقل کی گئی هے-[11]

طبری نے بھی اپنی تفسیر میں اس آیه شریفه کے ذیل میں اور اس کی شان نزول کے بارے میں متعدد روایتیں نقل کی هیں ، اکثر ان روایتوں میں کها گیا هے که: " یه آیت حضرت علی(ع) کے بارے میں نازل هوئی هے-"[12]

مرحوم علامه امینی نے اپنی کتاب " الغدیر" میں حضرت علی علیه السلام کے بارے میں اس آیت کے نازل هو نے کے سلسله میں اهل سنت کی تقریباً بیس معتبر کتا بوں سے ان کے صحیح اورمحکم  اسناد و منابع ذکر کر کے متعدد روایتیں نقل کی هیں-[13]

اس آیه ولایت میں ، حضرت علی علیه السلام کی ولایت، خدا وند متعال اور پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم کی ولایت کی فهرست میں قرار پائی هے-

٣- آیه اولی الامر:           " ایمان والو! الله کی اطاعت کرو اور رسول(ص) اور صاحبان امر کی اطاعت کرو جو تمھیں میں سے هیں-"[14]

اس کے علاوه دانشوروں [15]نے کها هے که آیه اولی الامر حضرت علی علیه الاسلام کے بارے میں نازل هوئی هے-

مثلاً : "حاکم حسکانی "، حنفی نیشا پوری ( اهل سنت کے مشهور مفسر) نے اس آیه شریفه کے ذیل میں پانچ حدیثیں نقل کی هیں که ان سب میں " اولی الامر" کا عنوان حضرت علی علیه السلام پر منطبق هوا هے-[16]

ابو حیان اندلسی مغربی اپنی تفسیر " البحر المحیط" میں اولی الامر کے بارے میں نقل کئے گئے اقوال کو (تین مفسرین) مقاتل ، میمون اور کلبی سے نقل کر تے هیں ،جن سے مراد، ائمه اهل بیت علیهم السلام هیں-[17]

اهل سنت کے ایک عالم)ابوبکر بن مٶمن شیرازی نے اپنے رساله" اعتقاد" میں ابن عباس سے نقل کیا هے که مذکوره آیه شریفه حضرت علی علیه السلام کے بارے میں نازل هوئی هے –[18]

اس کے علاوه اس آیه شریفه میں ایک هی سیاق سے اور تکرار کے بغیر (اطیعوا) خدا ، رسول اور اولی الامر کی اطاعت واجب قرار دی گئی هے، اس لحاظ سے اولی الامر معصوم هیںجیسے خدا اور پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم معصوم هیں اگر ایسا نه هو تا تومطلق طور پر ان کی اطاعت کا حکم معنی نهیں رکھتا- اور روایات کے مطابق ، معصوم صرف شیعوں کے امام هیں-

جوکچھـ ذکر هوا ، وه ان احادیث کا ایک حصه تھا جو اهل سنت کی معتبر کتا بوں سے اور قابل قبول راویوں سے اور شیعوں کی کتابوں میں صرف حضرت علی کی امامت کے بارے میں نازل هوئی مذکوره تین آیتوں کے بارے میں نقل کیاگیا هے – ان آیات و روایات کے بارے میں اهل سنت کی کتابوں میں کچھـ مزید قابل ذکر نکات پائے جاتے هیں، ان کے بارے میں تفصیلی معلو مات حاصل کر نے کے لئے قابل اعتبار کتابوں کی طرف رجوع کیا جاسکتا هے-

خلاصه کےطور پر ذکر کی گئی مذکوره تین آیتوں کے علاوه مزید کئی آیات حضرت علی(ع) اور دوسرے ائمه اطهار علیهم السلام کی امامت کے بارے میں بلا واسطه طور پر وضا حت کرتی هیں ، جن کو اهل سنت کی کتابوں میں نقل کیا گیا هے، مثال کے طور پر درج ذیل آیات قابل ذکر هیں:

آیه صادقین: "یا ایها الذین آمنوا اتقوا الله وکونوا مع الصادقین"[19] اور آیه قربی:" قل لا اسئلکم علیه اجراً الا المودۃ فی القربی"[20]- اس کے علاوه حضرت علی علیه السلام اور دوسرے ائمه اطهار علیهم السلام کی ولایت و امامت کو بلا واسطه طور پر پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم کی روایات میں بیان کیا گیا هے ، جو اهل سنت اور شیعوں کی کتابوں میں درج کی گئی هیں-

مذ کوره آیات کے علاوه کئی دوسری آیات بھی هیں جو رسول خدا صلی الله علیه وآله وسلم کے دوسرے صحابیوں پر حضرت علی علیه السلام کی فضیلت اور برتری بیان کرتی هیں – اب هم عقل کے حکم کے استناد پر که " مرجوح" کو" ارحج" پر مقدم کر نا قبیح هے، نتیجه حاصل کر سکتے هیں کهپیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم کی جا نشینی و امامت کے حقدار حضرت علی علیه السلام هیں-

ب حدیثی دلیل:

شیعوں اور اهل سنت کی بهت سی کتابوں میں پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم سے یه روایت نقل کی گئ هے که آنحضرت صلی الله علیه وآله وسلم نے فر مایا که:" میرے بعد میرے وصی اور جانشین علی بن ابیطالب (ع) هیں اور ان کے بعد آپ (ع) کے دو فرزند حسن وحسین (علیهما السلام)اور ان کے بعد امام حسین علیه السلام کی نسل سے (یکے بعد دیگرے) نو فرزند هیں-[21]البته یه روایت ان روایتوں کے علاوه هے جو " حدیث یوم الدار" ، " حدیث منزلت" حدیث غدیر خم اور مشهور" حدیث ثقلین" کے سلسلے میں بیان هوئی هیں یا وه احادیث جن میں فر مایا هے : "میرے بعد باره خلیفے هوں گے جن کی وجه سے دین عزیز هوگا-"

بحث کو واضح کر نے کے لئے هم ذیل میں خلاصه کے طور پر تین اهم روایتوں کی طرف اشاره

کر تے هیں:

١- حدیث منزلت:

اس حدیث کی داستان یوں هے که: غزوه تبوک کے سلسله میں پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم اپنے بهت سے صحابیوں کے همراه مدینه سے باهر تشریف لائےاور رومانیه کی طرف روانه هوئے- آنحضرت صلی الله علیه وآله وسلم نے مدینه منوره میں اپنی جگه پر جانشین کے طور پر حضرت علی علیه السلام کو مقرر فر مایا،  تاکه مدینه رهبر سے خالی نه رهے – بعض صحابیوں نےً طعنه زنی کے طور پر زبان کھولی اور کها :" پیغمبر صلی الله علیه وآله وسلم نے علی(ع) کو مدینه میں رکھا تاکه عورتوں اور بچوں کی نگرانی کریں!"

حضرت علی علیه السلام نے اس سلسله میں آنحضرت صلی الله علیه وآله وسلم کی خدمت میں شکایت کی اور آنحضرت نے اس وقت یه تاریخی جمله فر مایا ": میرے نزدیک تمھارا مقام و منزلت ، حضرت موسی(ع) کے نزدیک ھارون کے  به نسبت مقام و منزلت کے مانند هے، صرف اس فرق کے ساتھـ که میرے بعد کوئی پیغمبر نهیں هوگا-"[22]

٢- حدیث ثقلین:

یه حدیث اهل سنت کی بهت سی معتبر کتابوں [23]میں نقل کی گئی هے که: پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں اپنے اصحاب سے مخاطب هو کر یوں فر مایا ": لوگو! عنقریب مجھے خدا وند متعال کی طرفسے بلا وا آئے گا اور میں خدا کی اس دعوت کو قبول کروں گا – میں آپ کے در میان دو گرانقدر چیزیں یاد گار کے طور پر چھوڑ تا هوں ، ان میں سے ایک خدا کی کتاب اور دوسری میری عترت(ع) هے- خدا کی کتاب ایک رسی کے مانند هے جو آسمان سے زمین تک پھیلی هوئی هے اور میری عترت وهی میرے اهل بیت (ع) هیں- یه دونوں آپس میں جدا نهیں هون گے ، یهاں تک که حوض کوثر پرمجھـ سے آملیں گے- لهذا دیکھئے که آپ میرے بعد ان کے ساتھـ کیسا برتاٶ کریں گے-"[24]

٣- حدیث غدیر:

غدیر کا واقعه پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم کی عمر شریف کے آخری ایام میں پیش آیا هے – پیغمبر خدا صلی الله علیه وآله وسلم نے اس دن فر مایا :" من کنت مولاه فهذا علی مولاه" " جس کا میں مو لاهوں اس کے یه علی(ع) بھی مولا هیں-" اور اس طرح علی بن ابیطالب کی امامت کی وضاحت فر ما کر اپنی رسالت کی ذمه داری انجام دی-

اس واقعه کو پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم کے صحابیوں کی ایک بڑی تعداد [25](١١٠ افراد)، ٨٤تابعین اور ٣٦ دانشوروں اور مصنفوں نے نقل کیا هے – علامه امینی نے ( اهل سنت و شیعه کی ) اسلامی کتا بوں میں سے مستحکم دلائل کے ساتھـ اپنی مشهور کتاب "الغدیر" میں ان تمام روایتوں کو درج کیا هے-

جوکچھـ بیان هوا، وه حضرت علی علیه السلام کی بلا فصل خلافت کے سلسله میں بے شمار دلائل میں سے مشتے از خروارے کے مانند هے-[26]

اس موضوع کے سلسله میں معلومات حاصل کر نے کے لئے مندرجه ذیل منابع کا مطالعه کر سکتےهیں:

تفسیر پیام قرآن، تحت نظر آیتالله ناصر مکارم شیرازی،ج٩( امامت وولایت در قرآن مجید،صفحه ١٧٧کے بعد)




[1] - مزید معلو مات کے لئے ملاحظه هو:١- دلا یل عقلی امامت نمبر٦٧١- ٢- دلایل عقلی امام زمان (عج)نمبر ٥٨٢-
[2] - اس امر کی آگاهی کے لئے که قرآن مجید میں کیوں واضح طور پر اماموں کے نام نهیں آئے هیں ؟ ملاحظه هو عنوان: "نام امامان علیهم السلام در قرآن-
[3] - مزید آگاهی کے لئے ملاحظه هو عنوان:" دلایل اعتقاد به امامت و امامان" -
[4] - " یا ایها الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک---" مائده، ٦٧ مزید معلو مات کے لئے ملاحظه هو عنوان:" اهل سنت وآیه تبلیغ"
[5] - مکارم شیرازی ، پیام قرآن ،ج٩، امامت در قرآن ،ص١٨٢ کے بعد-
[6] - " انما ولیکم الله ورسوله والذین آمنوا الذین یقیمون الصلوه---" مائده، ٥٥-
[7] - چونکه روایات کے مطابق جس نے رکوع کی حالت میں سائل کو انگوٹھی دی هے وه حضرت علی( ع) تھے-
[8] - الدر المنثور،ج٢،ص٢٩٣-
[9] - اسباب النزول، ص١٤٨-
[10] - تفسیر کشاف،ج١،ص٦٤٩-
[11] - تفسیر مخر رازی،ج١٢،ص٢٦-
[12] -تفسیر طبری،ج٦،ص١٨٦-
[13] - الغدیر ،ج٢،ص٥٢ و ٥٣-
[14] - " یا ایها الذین امنوا اطیعوا الله و اطیعوا الرسول و اولی الامر منکم---" نساء ٥٩-
[15] - تفسیر برهان میں بھی منابع اهل بیت(ع) سے اس آیت کے ذیل میں دسیوں روایتیں نقل کی گئی هیں ، جن میں کها گیا هے که: مذکوره آیه شریفه حضرت علی یا حضرت علی اور دوسرے تمام ائمه اطهار علیهم السلام کے بارے میں نازل هوئی هے اور یهاں تک که بعض روایتوں میں ایک ایک کر کے باره اماموں کے نام بھی ذکر هوئے هیں- تفسیر بر هان ، ج١،ص٣٨١- ٣٨٧-
[16] - شواهد التنزیل ،ج١،ص١٤٨ تا ١٥١-
[17] - بحر المحیط ،ج٣،ص٢٧٨-
[18] - احقاق الحق،ج٣،ص٤٢٥-
[19] -" یا ایها الذین امنوا اتقوا الله وکونوا مع الصادقین---" توبه،١١٩-روا یتوں میں آیا هے که: "صادقین" سے مراد حضرت علی(ع) اور پیغمبر صلی الله علیه وآله وسلم کے اهل بیت اطهار علیهم السلام هیں :ینابیع الموده ، ص١١٥و شواهد التنزیًل،ج١،ص٢٦٢)
[20] - شوری، ٣٣- مزید معلو مات کے لئے ملاحظه هو: "اهل بیت علیهم السلام و آیه مودت"
[21] - تذ کره الخواص، سبط بن جوزی، طبع لبنان،ص٣٢٧ ،   ایضاً ینا بیع الموده، شیخ سلیمان قندو زی، باب ٧٧، ص٤٤٤، طبع اسلامبول: اسی طرح فرائد السمطین ، جو ینی ، بیروت ، ج٢،ص١٣٤-
[22] - " انت منی بمنزله هارون من موسی الا انه لا نبی بعدی : فضائل الخمسه ، ج١،ص٣١٦- ٢٩٩-
[23] - صحیح مسلم ، صحیح ترمذی ، ج٢،ص ٣٠٨: خصائص نسائی ، ص ٢١پیغ مستدرک حاکم ،ج٣،ص١٠٩: مسند احمدبن حنبل،ج٣،ص١٧-
[24] - " انی اوشک ان ادعی فاجیب و انی تارک فیکم الثقلین کتا ب الله عز وجل وعترتی- کتاب الله حبل ممدودمن السماء الی الارض وعترتی اهل بیتی ، انهما لن یفتر قا حتی یردا علی الحوض فانظرونی بم تخلفونی فیهما : فضائل الخمسه ، ج٢،ص٥٣- ٤٤-
[25] - ابو سعید خدری ، زیدبن ارقم، جابر بن عبدالله انصاری ، ابن عباس، براء بن عازب ، حذیفه، ابو هریره، ابن مسعود و عامر بن لیلی ان میں شامل هیں-
[26] - مزید معلو مات کے لئے علامه امینی کی گراں بها کتاب " الغدیر" ج١اور کتاب: " پیشوائی از نظر اسلام " تالیف آیت الله جعفر سبحانی ص ٢٧٤ و٣١٧ کی طرف رجوع کیا جاسکتا هے جو حدیث غدیر کے اسناد و تجزیه پر مشتمل هے-