Sunday, March 1, 2015

امیر المومنین علیہ السلام نے اپنے حق کے غاصبوں کیخلاف تلوار کیوں نہ اٹہایی

اکثر برادران اہل سنت بلکہ بعض شیعہ افراد کی جانب سے بہی یہ سوال کیا جاتا ہے کہ مولا علی جو شیر خدا و رسول اور فاتح بدر و خیبر و حنین و خندق تہے. جنکی شجاعت کا پورے عرب میں شہرہ تہا. اخر نبی اکرم کے بعد کیوں خاموش رہے؟؟ .اور مظالم پر سکوت کیوں فرمایا ؟؟ بیشک یہ سوال پیدا ہوتا ہے اور سوال اپنی جگہ درست بہی ہے. پہلی بات تو یہ ہے جہ شجاعت کا تعلق صرف تلوار چلانے اور دشمن کو گرانے سے نہی ہے . بلکہ اسلام میں شجاع ترین عہ ہے جو اپنے نفس پر غلبہ پائے اور یقینا علی سے بڑہکر اس امت میں کویی شجاع نہی. دواری بات یہ ہے کہ امام یا نبی ہمارے خیالات کیمطابق فیصلہ کے پابند نہی ہیں . انکی شجاعت و بہادری کا مورد اللہ عزوجل کے حکم اور اس کے دین کی مصلحت کے پابند ہے. لہذا جیاں تلوار چلانا مصلحت ہو وہاں ( اشداء علی الکفار یعنی کافروں پر شدید ہیں ) اور جہاں صبر و تحمل قرین مصلحت ہو وہاں ( صبر جمیل بہترین و زیباترین صبر)کی مکمل صورت ہیں. مذکورہ سوال کسی نے خود اپ علیہ السلام سے پوچہا تہا جسے احتجاج طبرسی میں نقل کیا گیا ہے. کہ اے امیر المومنین ! اپ نے ناکثین ( اصحاب جمل جو بیعت توڑ کے اپ سے علیحدہ ہوئے اور مارقین ( نافرمان و باغی گروہ مثل معاویہ و اصحاب معاویہ و ابن العاص) اور خوارج ( اصحاب ذو الثدیہ جو حکمین کیبعد اپ سے علیحدہ ہوئے یہ گروہ علی اور معاویہ دونوں کو کافر کہتا اور انہیں حکمین کے قضیے کیبعد کافر سمجہتے تہے. لیکن تاریخ گواہ ہے کہ خوارج سے معاویہ و اصحاب معاویہ کو کبہی کویی بہی نقصان نہی پہنچا. بلکہ فتنہ خوارج سے ہمیشہ علی اور شیعیان علی کا نقصان ہوا ہے. لعنت اللہ علیہم) کے خلاف تلوار چلایی لیکن تینوں خلفاء اور ان کے ساتہیوں کیخلاف ذولفقار کو کیوں بے نیام نہی کیا ؟؟؟ آپ نے سایل کے جواب میں ارشاد فرمایا. " اس وقت مجہ پر چہ انبیاء کی اتباع لازم تہی (1) سب سے پہلے جناب نوح کی مثال میرے سامنے تہی جب انہیں انکی قوم نے مغلوب کیا تو فرمانے لگے ( رب انی مغلوب فانتصر- سورہ القمر -10) یعنی" اے اللہ میں مغلوب کردیا گیا ہوں. میری مدد کر" ( شرح کلام )پس جب نبی مغلوب کیا جاسکتا ہے اور نبوت برقرار بہی رہتی ہے تو پہر وصی کو اگر امت مغلوب کردے تو کیا اسکی وصایت پر کویی فرق پڑ سکتا ہے؟ پس مولا نے جناب نوح کی سیرت پر عمل کیا اور اللہ سے مدد کی دعا کی. جسطرح اللہ نے نوح کی مدد کی اسیطرح ال محمد کی بہی مدد فرماییگا. (2) دوسری مثال جناب لوط علیہ السلام کی تہی جو میرے سامنے تہی جس پر مجہے عمل کرنا تہا جب لوط نے کہا ( لو ان لی بکم قوة او آوی الی رکن شدید. ہود -80) یعنی " اے کاش. میرے پاس اتنی قوت ہوتی کہ میں تمہارا مقابلہ کرسکتا یا مجہے مضبوط طاقت کی پناہ مل سکتی " (شرح کلام ) یعنی جناب لوط علیہ السلام کے گہر پر جب فرشتے لڑکوں کی شکل میں ایے تاکہ ان پر عذاب ڈالا جاسکے. جب انکی بدکار قوم کو پتہ چلا کہ لوط کے گہر خوبصورت لڑکے ائے ہیں وہ اس حقیقت سے بےخبر تہے کہ یہ فرشتے ہیں .یہ لوگ مجمع کی صورت می اپکے گہر کیطرف نکل ایے. اور غلغلہ کرنے لگے تو جناب لوط نے ان کو بہت سمجہایا کہ یہ میرے مہمان ہیں( اسوقت تک لوط علیہ السلام طیج ان فرشتوں کی اصلیت سے واقف نہ تہے) لیکن اپکی بات کسی نے نہ مانی بلکہ ان مہمانوں کو انکے حوالے کرنے کیلیے بضد رہے تو جناب لوط نے فرمایا.اج میرے پاس تم سے مقابلہ کرنے کی سکت ہوتی یعنی اصحاب و انصار ہوتے تو میں تمہارا مقابلہ کرتا . لیکن ہایے تنہایی! میں تنہا ہوں اور کویی طاقتور مددگار بہی نہی پات جس کی مدد سے میں تم سے مقابلہ کروں. لوط علیہ السلام کی یہ بات سنی تو فرشتوں نے کہا اے لوط. ! ڈر یا خوف کی بات نہی یہ ہم پر قدرت نہی رکہتے ہم فرشتے ہیں. پس اج کی رات اس جگہ سے نکل جاو.ہم بحکم خدا اس بستی کو برباد کرنے ایے ہیں.اور اپنی زوجہ کو نہ لے جانا کیونکہ وہ انکی جاسوسہ ہے وہ انکیساتہ ہلاک ہوگی. قارئین! کتنی مشابہت ہے قوم لوط اور امت محمدیہ میں اور کسقدر مشابہ ہیں علی ابن ابیطالب جناب لوط علیہ السلام سے. (3) جناب ابراہیم خلیل الرحمن علیہ السلام کی مثال بہی میرے سامنے تہی جب اپ نے اپنی قوم سے فرمایا ( واعتزلکم مما تعبدون من دون اللہ. مریم -48) یعنی " میں تم سے اور تمہارے ان معبودوں سے کنارہ کشی اختیار کرتا ہوں جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو " ( شرح کلام) یعنی جناب ابراہیم قوم کی نافرمانی کیوجہ سے کنارہ کشی کرسکتے ہیں جبکہ وہ نبی اور خلیل اللہ تہے تو پہر نبی کا وصی قوم سے کنارہ کشی کرے تو کیا مضایقہ ہے اور خصوصا جب یہ خانہ نشینی بموجب رضایے خدا و مصلحت دین کیلیے ہو. (4) جناب موسی علیہ السلام کی مثال بہی سامنے تہی جس پر عمل کرنا لازم تہا . جب موسی نے کہا ( ففررت لما خفتکم .الشعراء-21) اور میں نے تم ( فرعون) سے دوری اختیار کی جب مجہے اپنی جان کا خدشہ لاحق ہوا. ( شرح کلام ) یعنی جناب موسی کلیم اللہ علیہ السلام نے اپنی جان کے دفاع میں مصر کو ترک کیا اور مداین چلے گئے اور جب حالات سازگار ہویے تو واپس تشریف لایے. اسیطرح وصی رسول خدا امیر المومنین کو بہی اس امت سے خدشہ تہا لہذا اپ نے بہی انہیں ترک کردیا اور امر خدا و حالات کی سازگاری کا انتظار فرمایا. پس جو شے نبی کیلیے عیب نہ ہو وہ وصی کیلیے کیسے عیب بن سکتا ہے. (5) جناب ہارون کی مثال بہی میرے سامنے تہی جب فرمایا ( یابن ام ان القوم استضعفونی وکادوا یقتلوننی.اعراف-50) یعنی " اے میرے بہایی! اس امت نے مجہے کمزور کردیا اور میرے قتل پر امادہ ہوگئے " شرح کلام ) جب موسی چالیس دن کیبعد تورات کی الواح لیکر کوہ طور سے واپس ائے اور قوم کو بچہڑے کی پرستش کرتے پایا تو ہارون پر غضبناک ہویے کہ انہیں اس کام سے کیوں نہ روکا ؟ تو جناب ہارون نے جواب دیا اے میرے بہایی ! انہوں نے میری نافرمانی کی اور مجہے اکیلا کردیا اور کمزور کردیا بلکہ میرے قتل کے درپے ہوگئے. پس وصی موسی کیلیے جیسے حالات موسی کیبعد پیدا ہویے ایسے ہی حالات علی کیلیے نبی اکرم کیبعد پیدا ہویے اور علی نے وہی کیا جو جناب ہارون نے کیا. تبہی تو نبی نے فرمایا تہا ( اے علی تمہیں مجہ سے وہی نسبت حاصل ہے جو ہارون کو موسی سے تہی. حدیث متفق بین الفریقین ہے) (6) سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم بہی میرے پیش نظر تہی جس کی اتباع مجہ پر لازم تہی جب مجہے اپنے بستر پر سلا کر ہجرت فرمایی اور غار میں جا چہپے. یہ اپکا چہپنا دشمنوں کے شر سے بچنے کیلیے تہا. ( شرح کلام ) دشمن کے شر سے محفوظ رہنے کیلیے خود کو مخفی کرنا اور چہپانا اللہ کا حکم تہا .جس پر نبی نے عمل کیا. پہر جب جنگوں کا حکم ایا تو اپ نے انہی کفار کیخلاف جنگ فرمایی . اسیطرح علی ابن ابیطالب کا رسول کیبعد ایک مخصوص مدت تک خاموشی اختیار کرنا بہی امر الہی تہا جس پر علی نے عمل کیا. اور جب جنگوں کا زمانہ ایا تو علی ابن ابیطالب سے بڑہ کر راہ خدا میں جہاد کرنیوالا کویی نہ تہا. ہم اسی پر اکتفا کرتے ہویے موضوع کو مکمل کرتے ہیں اور اللہ سے سب کی توفیقات میں اضافے کیلیے دعاگو ہیں

Saturday, February 14, 2015

کیا حضرت علی خلافت کو اپنا حق سمجھتے تھے

اس مختصر سے مقالے میں ہم اس بات پر روشنی ڈالیں گے کہ کیا حضرت علی خلافت کو اپنا حق سمجھتے تھے؟ نیز کیا وہ دیگر خلافتوں سے خوش تھے، یا پھر صبر سے کام لے رہے تھے؟
آغاز ہم صحیح بخاری کی اس روایت سے کرتے ہیں۔ عمر نے کہا
حِينَ تَوَفَّی اللہُ نَبِيَّهُ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْأَنْصَارَ خَالَفُونَا وَاجْتَمَعُوا بِأَسْرِهِمْ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ وَخَالَفَ عَنَّا عَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ وَمَنْ مَعَهُمَا
جس وقت اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وفات دے دی تو اس وقت وہ ہم سب سے بہتر تھے، مگر انصارؓ نے ہماری مخالفت کی اور سارے لوگ سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوگئے اور حضرت علی وزبیر رضی اللہ عہنما نے بھی ہماری مخالفت کی
( صحيح البخاري، ج ٦، ص ۲۵۰۳، ح٦۴۴۲، كتاب الحدود، ب 31، باب رَجْمِ الْحُبْلَى مِنَ الزِّنَا إِذَا أَحْصَنَتْ)
اس روایت کو ذہن نشین کرتے ہوئے ہم آتے ہیں ایک دوسری روایت کی طرف۔ یہ روایت تاریخ طبری، جلد ۲، صفحہ ۵۸۰، طبع دار الکتب علمیہ، بیروت؛ سے شروع ہوتی ہے۔ اردو ترجمہ میں یہ روایت جلد ۳، صفحہ ۲۵۳، طبع نفیس اکیڈمی، کراچی؛ سے شروع ہوتی ہے- لنک ملاحظہ کریں
پہلی نکتے کی طرف اشارہ، عبدالرحمن بن عوف نے کیا، صفحہ ۵۸۲ پر فرماتے ہیں
فقال لعلي إنك تقول إني أحق من حضر بالأمر لقرابتك وسابقتك وحسن أثرك في الدين ولم تبعد
علی سے کہا: آپ کہتے ہیں کہ میں سب میں زیادہ حق رکھتا ہوں اس امر (خلافت) کا اپنی قرابت کی بنیاد پر، اور اسلام میں سبقت کی بنیاد پر، اور دین میں بہتر ہونے کی وجہ سے، اور آپ اپنے آپ کو اس سے دور نہیں کرتے۔۔۔۔
یہ تو ہوا ہمارا پہلا نکتہ
اب دوسرے نکتے کی طرف آتے ہیں
جب عبدالرحمن نے خلافت عثمان کے حوالے کی، تو جلد ۲، صفحہ ۵۸۳ پر؛ امام علی علیہ السلام نے فرمایا
ليس هذا أول يوم تظاهرتم فيه علينا فصبر جميل والله المستعان على ما تصفون والله ما وليت عثمان إلا ليرد الأمر إليك
یہ پہلا دن نہیں کہ جب تم نے ہم پر غلبہ حاصل کیا۔ بہر حال صبر کرنا بہتر ہے، اور جو کچھ تم بیان کرتے ہو، اس کے مقابلے میں اللہ ہی سے مدد حاصل کی جائے گی۔ آپ نے اسے ولی نہیں بنایا مگر اس وجہ سے کہ وہ یہ امر آپ کو لوٹا دے گا۔
اس سے واضح ہوا کہ امام علی خلافت کو اپنا حق سمجھتے تھے، اور چھن جانے پر صبر کر رہے تھے
اب آتے ہیں اس روایت کی اسنادی حیثیت کی طرف
طبری نے جلد ۲، صفحہ ۵۸۰ پر اسناد کا ذکر کچھ یوں کیا
حدثني عمر بن شبة قال حدثنا علي بن محمد عن وكيع عن الأعمش عن إبراهيم
ومحمد بن عبدالله الأنصاري عن ابن أبي عروبة عن قتادة عن شهر بن حوشب
وأبن مخنف عن يوسف بن يزيد عن عباس بن سهل
ومبارك بن فضالة عن عبيدالله بن عمر
ويونس بن أبي إسحاق عن عمرو بن ميمون الأودي
گویا مختلف اسناد کا زکر کیا ہے طبری نے، مگر ہم پہلی سند پر روشنی ڈالیں گے، اور باقی اسناد صرف اس سند کو قوی کرنے کی خاطر رہنے دیں گے
پہلی سند یوں ہے
حدثني عمر بن شبة قال حدثنا علي بن محمد عن وكيع عن الأعمش عن إبراهيم
عمر ابن شبہ
عمر ابن شبہ کے متعلق مشھور عالم ذھبی نے کہا کہ علامہ، حافظ، حجت ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ دارقطنی اور دیگر نے انہیں ثقہ قرار دیا۔ ابن ابی حاتم کو صدوق یعنی سچے ہیں، ابو حاتم بستی نے کہا کہ حدیث میں قائم ہیں۔ خطیب نے کہا کہ ثقہ ہیں
عربی متن یوں ہے
عمر بن شبة ( ق ) ابن عبدة بن زيد بن رائطة ، العلامة الأخباري الحافظ الحجة ۔۔۔۔وثقه الدارقطني وغير واحد .
وقال عبد الرحمن بن أبي حاتم : كتبت عنه مع أبي ، وهو صدوق ، صاحب عربية وأدب .
وقال أبو حاتم البستي : مستقيم الحديث ، وكان صاحب أدب وشعر ، وأخبار ومعرفة بأيام الناس . [ ص: 371 ]
قال أبو بكر الخطيب : كان ثقة
علی بن محمد المدائنی
ان کے متعلق ذھبی نے کہا کہ علامہ، حافظ اور صادق یعنی سچے ہیں، اور جو نقل کرتے ہیں، اس میں سچے ہیں، اور عالی، یعنی عمدہ اسناد رکھتے ہیں۔ نیز، یحیی بن معین کا قول نقل کرتے ہوئے لکھا کہ وہ ان کے ثقہ،ثقہ،ثقہ (یعنی ۳ بار) قرار دیتے ہیں۔ عربی متن ملاحظہ ہو
المدائني العلامة الحافظ الصادق أبو الحسن علي بن محمد بن عبد الله بن أبي سيف المدائني الأخباري . نزل بغداد ، وصف التصانيف ، وكان عجبا في معرفة السير والمغازي والأنساب وأيام العرب ، مصدقا فيما ينقله ، عالي الإسناد . ۔۔۔۔۔۔۔ قال يحيى : ثقة ثقة ثقة . فسألت أبي : من هذا ؟ قال: هذا المدائني
وکیع بن جراح
یہ صحاح ستہ کے راوی ہیں، اور ذھبی نے ان کو امام اور حافظ قرار دیا۔ ابن حجر کے بقول یہ ثقة، حافظ اور عابد ہیں
سليمان بن مهران الأعمش
یہ بھی صحاح ستہ کے راوی ہیں، اور ذھبی نے ان کو امام، شیخ الاسلام اور شیخ المحدیثین قرار دیا۔ اگرچہ ان کو مدلس کہا گیا ہے، تاہم اس روایت کا معنعن ہونا، روایت کی صحت کو ضرر نہیں پہنچاتا کیوںکہ ابراہیم النخعی سے ان کی معنعن روایت صحیح بخاری و مسلم میں موجود ہیں
ملاحظہ ہوں
حدثنا أبو نعيم حدثنا الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة رضي الله عنها قالت أهدى النبي صلى الله عليه وسلم مرة غنما
مصدر:- صحیح بخاری-
اسی طرح صحیح مسلم میں ملاحظہ ہو
رقم الحديث: 440
(حديث مرفوع) وحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الأَسْوَدِ ، وَهَمَّامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، فِي الْمَنِيِّ ،
ترمذی نے اپنی سنن، جلد ۱، صفحہ ۱۹۸، اسی معنعن سے مروی حدیث کو حسن صحیح کہا اور البانی نے بھی صحیح کہا- ملاحظہ ہو
حدثنا هناد حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن همام بن الحارث قال ضاف عائشة ضيف فأمرت له بملحفة صفراء فنام فيها فاحتلم فاستحيا أن يرسل بها وبها أثر الاحتلام فغمسها في الماء ثم أرسل بها فقالت عائشة لم أفسد علينا ثوبنا إنما كان يكفيه أن يفركه بأصابعه وربما فركته من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم بأصابعي قال أبو عيسى هذا حديث حسن صحيح
اور دوسرا لنک
ابراہیم النخعی
إبراهيم بن يزيد النخعي بھی صحاح ستہ کے راوی ہیں- ذھبی کہتے ہیں کہ یہ امام، حافظ اور فقیہ عراق تھے
یہاں تک کی گفتگو میں ہم کو یہ پتہ چلا کہ روایت کی سند صحیح مرسل ہے
اگرچہ مرسل روایات سے امام احمد، مالکی اور حنفی حضرات کے ہاں استدلال قائم کرنا صحیح ہے، جیسا کہ برادر اسماعیل دیوبندی نے اپنے ایک مقالے میں اس پر روشنی ڈالی تھی- ایک قول ان کے مقالے سے نقل کرتے ہیں:-
حافظ ابن رجب حنبلی مرسل سے استدلال کے باب میں لکھتے ہیں
وقد استدل کثیر من الفقھاء بالمرسل وھو الذی ذکره اصحابنا انه الصحیح عن الامام احمد وھو قول أبی حنیفة واصحابه واصحاب مالک ایضا
فرماتے ہیں کہ فقھاء کی بڑی جماعت نے مرسل روایات سے استدلال کیا ھے اور یہی [مرسل سے استدلال کا] قول ہمارے اصحاب نے امام احمد بن حنبل سے نقل کیا ھے اور یہی صحیح قول ھے اور یہی قول امام ابوحنیفہ اور انکے اصحاب اور مالکیہ کا بھی ھے
(شرح علل الترمذی// صفحہ116// طبعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)
حافظ ذھبی کی کتاب "الموقظة فی علم مصطلح الحدیث" فن اصول کی مستند اور مختصر کتب میں سے ایک ھے علامہ ذھبی نے مرسل سے احتجاج کی تخصیص فرمائی ھے کہ ارسال کرنیوالا راوی کم از کم متوسط طبقے کا تابعی ہو ملاحظہ ہو
نعم و ان صح الاسناد الی تابعی متوسط الطبقة کمراسیل مجاھد و ابراھیم والشعبی فھو مرسل جید لا باس به
یعنی اگر تابعی تک سند صحیح [متصل] ہو اور تابعی بھی متوسط طبقے کا ہو جیسے کہ مجاھد، ابراھیم نخعی، اور شعبی کی مراسیل ہیں تو اس طبقے کی مراسیل اچھی [صحیح] ہیں ان [سے استدلال کرنے] میں کوئی حرج نہی ھے
(الموقظة فی علم مصطلح الحدیث// صفحہ39// طبعہ مکتب المطبوعات الاسلامیہ بیروت)
پورے آرٹیکل کا لنک ملاحظہ کریں
ذھبی نے ابراہیم نخعی کی مراسیل کو جید قرار دیا، اور کہا کا اس میں کوئی برائی نہیں
اور یہ قول صرف انہی کا نہیں
ابن تیمیہ ان لوگوں کا ذکر کرتے ہیں کہ جو مرسل روایت نہیں کرتے سوائے ثقہ کے، اور اس میں ابراہیم کا شمار کرتے ہیں- عربی متن ملاحظہ ہو
ومنهم من يميز بين من عادته لا يرسل إلا عن ثقة ، كسعيد بن المسيب ، وإبراهيم النخعي ، ومحمد بن سيرين
( اقتضاء الصراط المستقيم لمخالفة أصحاب الجحيم، جلد ۲، صفحہ ۳۵۰،دار عالم الكتب، بيروت، لبنان)
اور ایک اور مقام پر انہوں نے لکھا کہ ابراہیم کے مراسیل عمدہ/جید ہوتی ہیں
مراسيل إبراهيم جياد
(الصارم المسلول، جلد ۱، صفحہ ۵۸۱)
اسی طرح ابن معین کہتے ہیں کہ ابراہیم کے مراسیل صحیح ہیں، جیسا کہ بیہقی نے سنن کبری،جلد ۱، صفحہ ۱۴۷ میں ذکر کیا
قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ , يَقُولُ : مُرْسَلاتُ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَحْسَنُ مِنْ مُرْسَلاتِ الْحَسَنِ , وَمُرْسَلاتُ إِبْرَاهِيمَ صَحِيحَةٌ إِلا حَدِيثَ تَاجِرِ الْبَحْرَيْنِ , وَحَدِيثَ الضَّحِكِ فِي الصَّلاةِ
اور دوسرا لنک
احمد بن حنبل نے کہا کہ ان کی مراسیل میں کوئی برائی نہیں، جیسا کہ علامہ جمال الدين القاسمي الدمشقي نے اپنی کتاب، قواعد التحديث من فنون مصطلح الحديث، صفحہ ۱۴۲ پر لکھا
وقال أحمد بن حنبل مرسلات سعيد بن المسيب أصح المرسلات ومرسلات إبراهيم النخعي لا بأس بها
ابن عبدالبر نے اپنی کتاب، الاستذكار، جلد ٦، صفحہ ۱۳۷ پر، تو اس بات کا دعوی کر دیا کہ ان کے مراسیل کے صحیح ہونے پر اجماع ہے
وأجمعوا أن مراسيل إبراهيم صحاح
اور دوسرا لنک
اس طرح انور شاہ کشمیری اپنی کتاب، العرف الشذي شرح سنن الترمذي، جلد ۳، صفحہ ۴۴۱، پر لکھتے ہیں کہ ابراہیم النخعی کے مراسیل کو قبول کیا جاتا ہے
ومراسيل إبراهيم النخعي مقبولة
یاد رہے کہ طبری نے دیگر اسناد کا ذکر بھی کیا تھا جو کہ اس سند کو مزید قوت دینی ہیں، اور قابل استدلال بناتی ہیں